بلوچستان میں "آپریشن شعبان" کی فیصلہ کن کارروائیاں تیز: ہلاک دہشت گردوں کی مجموعی تعداد 126 تک پہنچ گئی



صوبہ بلوچستان میں امن و امان کی بحالی اور دہشت گرد عناصر کے مکمل خاتمے کے لیے پاک فوج، فرنٹئیر کور (FC) اور بلوچستان پولیس کا مشترکہ "آپریشن شعبان" پوری طاقت اور کامیابی کے ساتھ آگے بڑھ رہا ہے۔ سیکیورٹی ذرائع سے حاصل ہونے والی تازہ ترین رپورٹس کے مطابق، سیکیورٹی فورسز نے حالیہ زمینی اور فضائی کارروائیوں کے دوران مزید 3 انتہائی مطلوب دہشت گردوں کو جہنم واصل کر دیا ہے، جس کے بعد صرف اس مخصوص آپریشن کے تحت مارے جانے والے خارجیوں کی تعداد بڑھ کر 88 ہو گئی ہے۔ اگر 5 جولائی سے شروع ہونے والے اس کریک ڈاؤن کے بعد سے اب تک صوبے بھر میں کی جانے والی تمام انٹیلی جنس بیسڈ (IBOs) اور فوجی کارروائیوں کے مجموعی اعداد و شمار کو دیکھا جائے تو اب تک مجموعی طور پر 126 دہشت گردوں کا صفایا کیا جا چکا ہے۔ اس اہم موقع پر وزیرِ اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے واضح الفاظ میں اعلان کیا ہے کہ بلوچستان دہشت گردی کے خلاف جنگ کے ایک فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہو چکا ہے، جہاں حکومت اپنی آئینی اور قومی ذمہ داریوں سے ایک انچ بھی پیچھے نہیں ہٹے گی اور معصوم شہریوں کو کسی صورت تنہا نہیں چھوڑا جائے گا۔
یہ وسیع تر فوجی آپریشن زیارت کے علاقے مانگی ڈیم کی پمپنگ اسٹیشن پر قائم پولیس پوسٹ پر ہونے والے اس بزدلانہ اور ہولناک حملے کے ردعمل میں شروع کیا گیا تھا، جس میں اغوا کیے جانے والے اہلکاروں سمیت مجموعی طور پر 27 پولیس جوانوں نے جامِ شہادت نوش کیا تھا۔ اس واقعے کے فوراً بعد ملکی سول اور عسکری قیادت نے دہشت گردی کے خلاف سخت ترین اور حتمی فیصلہ لیتے ہوئے مشترکہ کارروائیوں کا آغاز کیا، جبکہ وزیرِ اعلیٰ سرفراز بگٹی نے خود فرنٹ لائن کا دورہ کرتے ہوئے کوئٹہ کے قریب ہنہ اوڑک اور ہرنائی جیسے متاثرہ پہاڑی علاقوں میں جا کر آپریشن کا تفصیلی جائزہ لیا ہے اور وہاں موجود فورسز کے جوانوں اور افسران سے ملاقاتیں کر کے ان کے بلند حوصلے اور پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو زبردست انداز میں سراہا ہے۔ انہوں نے ہنہ اوڑک کے سانحے میں شہید ہونے والے پولیس اہلکاروں کے لواحقین سے ملاقاتیں کیں، ان سے تعزیت کا اظہار کیا اور حکومت کی جانب سے ہر ممکن تعاون کا یقین دلاتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ پائیدار امن کے قیام تک پوری قوت سے جاری رہے گی۔
فورسز نے جدید ترین ٹیکنالوجی، فضائی نگرانی اور زمینی دستوں کی مدد سے صوبے کے انتہائی دشوار گزار پہاڑی سلسلوں اور خفیہ ٹھکانوں کو محاصرے میں لے رکھا ہے۔ حالیہ کارروائیوں میں ہلاک ہونے والے دہشت گردوں کے قبضے سے بھاری مقدار میں جدید ترین امریکی اور یورپی ساختہ اسلحہ، جس میں ایم فور (M4) رائفلیں، راکٹ لانچر، خودکار ایس ایم جیز (SMGs) اور جدید سیٹلائٹ مواصلاتی آلات شامل ہیں، برآمد کر کے ان کے بڑے نیٹ ورکس کو تباہ کر دیا گیا ہے۔ وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی نے سیکیورٹی فورسز کی ان غیر معمولی اور پیشہ ورانہ کامیابیوں کو زبردست الفاظ میں سراہتے ہوئے واضح کیا ہے کہ معصوم شہریوں اور فورسز کا خون بہانے والے کسی بھی رعایت کے مستحق نہیں ہیں اور یہ جنگ آخری دہشت گرد کے خاتمے تک بلا تعطل جاری رہے گی۔ وزیرِ اعلیٰ سرفراز بگٹی کی زیرِ صدارت کوئٹہ میں ہونے والے اعلیٰ سطح کے اجلاسوں میں بھی اس عزم کو دہرایا گیا ہے کہ پوری قوم اپنی افواج کے شانہ بشانہ کھڑی ہے اور بلوچستان کی سرزمین پر ریاست کی رٹ ہر صورت بحال کی جائے گی، جبکہ فرار ہونے کی کوشش کرنے والے بقیہ دہشت گردوں کے گرد بھی گھیرا مزید تنگ کر دیا گیا ہے۔