بلوچ قوم کی تاریخ، لیجنڈز اور ماڈرن تاریخ دان

 


بلوچستان دنیا کے ان خطوں میں شامل ہے جہاں سے دنیا کی ابتدائی تہذیبوں نے جنم لیا۔ اس کی تاریخ وادی نیل اور مصر کی تہذیبوں سے بھی پرانی ہے۔ تقریباً نو ہزار برس قبل کوئٹہ کے قریب مہرگڑھ کا شہر بسایا گیا تھا۔ یہ اپنے دور کا دنیا کا سب سے بڑا شہر تھا جس کی آبادی بیس ہزار تک تھی۔ اس شہر کے کچھ دھندلے آثار آج بھی موجود ہیں۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ جب یہ شہر اجڑ گیا تو مہرگڑھ کے لوگ ہی پنجاب اور سندھ کے علاقوں میں جا کر پھر آباد ہوئے۔ انہوں نے ہی انڈس ویلی سیولائزیشن کی بنیاد رکھی تھی۔ ہڑپہ اور موئنجودڑو جیسے عظیم شہر بسانے والوں میں یہاں سے جانے والے لوگ بھی شامل تھے۔


تقریباً چار ہزار برس پہلے انڈس ویلی سیولائزیشن کے زوال کے بعد بلوچستان پھر ہندو تہذیب کے زیر اثر آ گیا۔ اس تہذیب کی یادگاریں اب بھی اس خطے میں بلوچستان میں جا بجا موجود ہیں، خاص طور پر لسبیلہ کے ہنگلاج ماتا مندر میں آج بھی ہندو یاتری جمع ہوتے ہیں۔ اس کے بعد یہ علاقہ مختلف وقتوں میں ایرانی اور عرب سلطنتوں کا حصہ رہا۔ لیکن سوال یہ ہے کہ بلوچ کمیونٹی، جس کے نام پر اس خطے کا آج نام بلوچستان ہے، یہ لوگ کون ہیں اور اس علاقے میں کہاں سے آئے تھے؟


بلوچستان کی تاریخ کے بارے میں دو مختلف ورژنز ہیں۔ پہلا ورژن ان لیجنڈز پر مشتمل ہے جو نسل در نسل سفر کرتی ہوئی سینہ بہ سینہ آج کے دور تک آئی ہیں۔ دوسرا ورژن وہ ہے جو ماڈرن ہسٹورینز نے جدید آلات کے ساتھ ریسرچ کرنے کے بعد پیش کیا ہے اور کافی محتاط ہیں۔

یعنی پرانی کہانیوں کے زمین پر آثار تلاش کرنے کے بعد انہوں نے لکھا ہے۔ تو ہم پہلے دیکھتے ہیں کہ بلوچوں کا اپنی تاریخ سے متعلق ورژن کیا ہے اور اس ورژن کا لیجنڈ والا حصہ کیا ہے۔ میر احمد یار خان، جو کہ ریاست کلات کے آخری حکمران تھے، انہوں نے اپنی کتاب "انسائیڈ بلوچستان" میں بلوچ لیجنڈز کو تفصیل سے لکھا ہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ بلوچ بنی اسرائیل کے بزرگ پیغمبر حضرت ابراہیم کی اولاد میں سے ہیں اور ان کے اباؤ اجداد شام سے بلوچستان آئے تھے۔ یعنی ان کا ورژن وہ خطہ ہے جہاں سیریا ہے۔ بلوچ قبائل کی روایات کے مطابق شام سے ہجرت کرنے کی وجہ خشک سالی تھی، بارشیں کم ہو رہی تھیں اور اس خطے میں زندگی اجیرن ہو گئی تھی۔ سو کسی وقت بزرگوں نے طے کیا اور قبیلے کے قبیلے اٹھ کر اس طرف، مشرق کی طرف چل پڑے۔ ایک ایسے خطے کی تلاش میں جہاں پانی اور سبزہ وافر دستیاب ہو۔ چلتے چلتے یہ لوگ ایران پہنچے۔ یہاں اس وقت ایرانی شہنشاہ نوشیروان عادل کی حکومت تھی۔ بلوچ قبائل نے ماونٹ البرز کے دامن میں کسی جگہ سامان کھول دیا اور کیسپین سی کے ساحلوں کے پہاڑی علاقوں میں رہنے لگے۔ یہ بہت سرسبز و شاداب علاقہ تھا۔ آب و ہوا بھی اچھی تھی اور پہاڑوں کی وجہ سے بڑے قبائل کی سیکیورٹی بھی آسان تھی۔ مگر یہاں ایک مسئلہ تھا، وہ یہ کہ ایرانی شہنشاہ نوشیروان کو اپنے علاقے میں اجنبی قبائل کا آنا پسند نہیں آیا۔ اس نے طاقت کے زور پر انہیں یہاں سے نکالنے کا فیصلہ کیا۔ پرشین فورسز نے شہنشاہ کے حکم پر مہاجر بلوچوں پر حملہ کیا۔ ظاہر ہے باہر سے آنے والے مشکل حالات سے گزر کر سنبھلنے والے لوگ اتنی بڑی ایمپیریل مائٹ کا مقابلہ تو نہیں کر سکتے تھے۔ وہ ہار گئے اور انہیں ماونٹ البرز سے نکل جانا پڑا۔ شہنشاہ نوشیروان نے انہیں مشرق کی طرف اور آگے جانے اور نئے علاقے تلاش کرنے کے لئے راستہ دے دیا۔

بلوچ قبائل بچا کھچا سامان لئے مشرق کی طرف چلتے آئے اور سفر کرتے ہوئے موجودہ بلوچستان کے سنگلاخ پہاڑوں کے درمیان آ کر بیٹھ گئے۔ یہاں انہوں نے پڑاؤ ڈالا اور اب یہ ان کا نیا وطن تھا۔ اگر ہم ان لیجنڈز کو مانیں نوشیروان عادل کا دور حکومت دیکھیں تو بلوچوں کے اس علاقے میں، جہاں آج کا بلوچستان ہے، آنے کا وقت چھٹی صدی بنتا ہے (6th سنچری) کیونکہ نوشیروان کی حکومت کا جو دور تھا وہ 539 سے 579 تک تھا۔ اس کے مطابق بلوچوں کی آمد کا وقت بھی اس کے قریب قریب ہونا چاہیے۔


جب بلوچ قبائل شہنشاہ نوشیروان کے ظلم سے تنگ آ کر کیسپین سی کے کنارے سے نکلے تو ان کے لیڈر بلوچ سردار میر ابراہیم تھے۔ لیکن برسوں کے تھکا دینے والے سفر کے بعد جب یہ لوگ موجودہ قلات کے مقام پر پہنچے تو اس وقت تک میر ابراہیم زندہ نہیں تھے، اور میر کمبر علی خان نے ان کی جگہ لے لی تھی۔ تاہم، ہجرت کو لیڈ کرنے والے لیڈر کے نام پر ان قبائلی گروپس کو براہیمی کہا گیا، جو کہ مقامی لہجوں میں بگڑتے بگڑتے براہوی اور بروہی بن گیا۔


یہاں پہنچنے کے بعد بلوچ قبائل نے مکران کی ساحلی پٹی پر بھی ڈیرے ڈال لئے۔ چند سو برس بعد، سولہویں صدی میں جب ہندوستان پر مغلوں کی حکومت ہوئی، تو وہ بلوچوں کے اتحادی بن گئے۔ انہی کی مدد سے مغلوں نے ایک ہندو حکمران سے قلات کا کنٹرول چھین لیا۔ لیکن مغلوں نے بلوچوں سے اس مدد کے بدلے میں جو وعدے کیے تھے، وہ پورے نہیں کیے۔ اس وجہ سے بلوچوں نے مغل اسٹیبلشمنٹ کو بھی یہاں سے نکال دیا اور اپنی ریاست قلات کی بنیاد رکھی۔

یہاں سے بلوچ قبائل کی باضابطہ ایک ریاست کا آغاز ہوتا ہے۔ یہ کہانی ساتھیوں، خان آف قلات میر احمد یار خان نے اپنی کتاب انسائیڈ بلوچستان میں لکھی ہے، جو 1975 میں شائع ہوئی تھی۔ بلوچوں کے بارے میں ایک اور لیجنڈ بھی ہے جس نے کہا، کہ وہ پیغمبر اسلام کے چچا حضرت امیر حمزہ کی اولاد میں سے ہیں۔ انہوں نے اموی حکمران یزید کے خلاف امام حسین کا ساتھ دیا تھا، اسی لئے امویوں نے انہیں ان کے آبائی علاقوں سے نکال کر ہجرت پر مجبور کر دیا۔


بلوچی زبان میں ایک قدیم نظم بھی ہے جس کا مفہوم یہ ہے کہ "ہم حمزہ کی اولاد ہیں، خدائی مدد ہمارے ساتھ ہے، ہم حلب سے آئے ہیں، یزید سے لڑے ہیں، ہم نے کربلا چھوڑا، بمبور چھوڑا اور سیستان میں ڈیرے ڈالے۔" یہ دونوں لیجنڈز، دوستوں، بلوچوں کی اپنی روایات سے اخذ کی گئی ہیں۔ یعنی ان کی اکثریت یا ایک بڑا حصہ ان لیجنڈز پر یقین رکھتا ہے کہ بلوچ اس طرح بلوچستان پہنچے اور اس طرح ریاست قلات قائم ہوئی۔


لیکن مسئلہ یہ ہے کہ ان لیجنڈ کے کچھ حصوں کی جدید تاریخ دان تصدیق نہیں کرتے، کیونکہ ان کے مطابق اس لیجنڈ کے جغرافیائی، لسانی اور قدیم تاریخ کے باقی ورژنز میں شواہد نہیں ملتے۔

تاریخ دان نصیر دشتی لکھتے ہیں کہ ماہرین نے بلوچ زبان کا مختلف ایرانی زبانوں سے موازنہ کر کے یہ نتیجہ نکالا ہے کہ بلوچ انڈو ایرانی لوگوں کے زیادہ قریب ہیں بجائے شامی عربوں کے۔ انڈو ایرانی وہ لوگ ہیں جنہیں آریا بھی کہا جاتا ہے، آریانز کہا جاتا ہے۔ اس لحاظ سے بلوچ بھی آریانز ہیں۔ یہ ہزاروں برس پہلے وسطی ایشیا کے مختلف علاقوں میں رہتے تھے، پھر مختلف موسمی حالات یا جنگوں وغیرہ کی وجہ سے تقریباً تین ہزار سال پہلے یہ سب ہجرت کر کے کیسپیئن سی کے مغرب میں، آج کے آرمینیا اور آذربائیجان جہاں ہے، اس ریجن میں آ کر رہنے لگے۔ یہ علاقہ اس وقت بلاسگان کہلاتا تھا۔ یہیں ان کی مختلف زبانیں اور لہجے ملا کر ایک نئی زبان وجود میں آئی جسے بلاشوکی یا بلوشکی کہا جانے لگا۔ یہ لوگ بھیڑ بکریاں پالتے تھے اور خانہ بدوشوں کی طرح اس علاقے میں ادھر ادھر گھومتے رہتے تھے۔


چند صدیوں بعد یہ علاقہ ایران کی اخامنشی سلطنت (اکامنیڈ امپائر) کے زیر تسلط آ گیا۔ ایران کی قدیم تحریروں میں بلاسگان اور بلاشوکی لوگوں کا تذکرہ ملتا ہے۔ یہ علاقہ آگے ایک ہزار برس تک ایران کے ہی زیر اثر رہا۔ اس دوران اخامنشی سلطنت ایک وقت میں ختم ہو گئی، جس کے بعد تیسری صدی میں ساسانی سلطنت یہاں قائم ہوئی۔ قدیم تحریروں کے مطابق، کچھ بلوچ ان دونوں سلطنتوں (ساسانی اور اخامنی) کی فوج میں شامل ہوتے رہے۔


تاہم، ساسانیوں کے آخری دور میں یعنی چھٹی صدی کے آخر اور ساتویں صدی کے آغاز پر ان کے اور ایرانی حکمرانوں کے درمیان بہت سے اختلافات، غلط فہمیاں اور جھگڑے ہونے لگے۔

ایرانیوں نے بلوچ علاقوں پر حملے شروع کر دیے، جس کے بعد خراب موسمی حالات نے بھی اثر دکھایا۔ نتیجتاً، بلوچوں کو اپنے بسے بسائے صدیوں پرانے گھر اور آبادیاں چھوڑنا پڑیں، اور یہ بلاسگان سے ہجرت کر گئے۔ اس کے بعد، ان قبائل کی بڑی تعداد ایران ہی کے جنوبی اور مغربی علاقوں میں جا کر بکھر گئی۔ بہت سے لوگ کرمان چلے آئے اور کچھ اس سے بھی آگے سیستان تک پہنچ گئے، یعنی بلوچستان ریجن کے دروازے تک آ گئے۔ ان قبائل میں اکٹھے رہنے کی وجہ سے جو اتحاد تھا، وہ ہجرت کے بعد بکھر گیا۔ شاید ایرانی حکمران بھی یہی چاہتے تھے کہ یہ لوگ یکجان ہو کر ایک جگہ نہ رہ سکیں اور مختلف علاقوں میں بکھر جائیں، اور اس میں وہ کامیاب ہوئے۔


ایرانی ایمپائر نے اس کے بعد بلوچوں کو مزید تنگ نہیں کیا، حالانکہ وہ ان کے زیرِ حکومت علاقوں میں رہ رہے تھے۔ بلکہ ایرانیوں نے دوبارہ بلوچوں کی فوجی خدمات حاصل کرنا شروع کر دیں۔ یوں لگتا ہے کہ نئے علاقوں میں بلوچوں کا لہجہ بدلا یا پھر مقامی لوگ ان کی قوم اور زبان کے تلفظ کو صحیح ادا نہیں کر سکے، جس سے یہ لفظ بگڑ کر "بلوچ" بن گیا اور ان کی زبان "بلوچی" کہلائی جانے لگی۔


ابھی بلوچ اپنے نئے علاقوں میں پوری طرح ایڈجسٹ بھی نہیں ہو پائے تھے کہ ایران میں ایک تاریخی انقلاب آ گیا۔ یہ انقلاب اس وقت آیا جب 634 عیسوی میں عربوں نے ایرانی علاقوں پر چڑھائی شروع کی۔ شروع میں بلوچ ایرانی فوج میں شامل ہو کر عربوں کے خلاف جنگ کرتے رہے، لیکن بعد میں ہمیں تاریخ میں ایک بلوچ کمانڈر "سیاہ سوار" کا تذکرہ بھی ملتا ہے۔

آخری ایرانی حکمران شاہد قرطری نے بلوچ کمانڈر سیاہ سوار کو عربوں سے لڑنے کے لیے بھیجا، مگر اس کمانڈر نے عرب سالار ابو موسی سے ہاتھ ملا لیا اور اپنے ساتھیوں سمیت اسلام قبول کر لیا۔ اس کے بعد بلوچ ابو موسی کی فوج میں شامل ہو کر ایرانیوں کے خلاف لڑنے لگے۔ عربوں نے سیاہ سوار اور اس کے ساتھیوں کو اپنی مدد کے بدلے عراقی شہر بصرہ میں زمینیں دیں اور انہیں وہاں آباد کر دیا۔ لیکن بعد میں بلوچوں کے عربوں کے ساتھ تعلقات بھی خراب ہو گئے، تو ایک عرب گورنر نے انہیں شام کی طرف ڈیپورٹ کر دیا اور بصرہ سے بھی نکال دیا۔ شاید اسی بلوچ کمانڈر کی کہانی نے آنے والی بلوچ نسلوں میں یہ خیال پیدا کیا کہ ان کا اصل وطن شام ہے۔


عراق اور شام جانے والے اس گروپ کے علاوہ بھی کئی بلوچ قبائل تھے جو ایران میں موجود تھے، اور وہ بھی رفتہ رفتہ اسلام قبول کرتے چلے گئے۔ لیکن ان کی مشکلات یہاں ختم نہیں ہوئیں۔ اموی اور عباسی دور میں ایران مسلسل بغاوتوں کا شکار رہا اور مسلسل بے چینی اور انارکی کی حالت میں رہا۔ ان مسائل سے تنگ آ کر مختلف موقعوں پر مختلف بلوچ قبائل نے کرمان اور دیگر علاقوں سے بلوچستان ریجن کی طرف ہجرتیں شروع کیں۔


آنے والی چند صدیوں میں ایران عربوں کے قبضے سے بھی نکل گیا، اور بعد میں سلجوق اور منگول فوجوں نے اس علاقے پر حملے کیے۔

ایران پر حملوں کی وجہ سے وہاں بچے کچے بلوچ قبائل بھی آہستہ آہستہ بلوچستان کی طرف سرکنے لگے۔ بلوچوں کے اس موجودہ بلوچستان کے ریجن میں آنے کی ایک اہم وجہ یہ تھی کہ یہاں کی زمین زیادہ تر سنگلاخ اور خشک تھی اور پانی کم تھا، لیکن سیکیورٹی کے لحاظ سے یہ ایک بہترین علاقہ تھا۔ اکثر حملہ آور یہاں سے گزرتے ضرور تھے لیکن یہاں قیام کرنا ان کی ترجیح نہیں ہوتی تھی، کیونکہ ان کے لیے دریائے سندھ کے کناروں پر اور دیگر دریاؤں کے گرد آباد بستیاں زیادہ اہم تھیں جنہیں لوٹنا ان کے لیے زیادہ فائدہ مند ہوتا تھا۔


بارہویں صدی سے سترہویں صدی کے درمیان بلوچوں کی نقل مکانی تیزی سے ہوئی، اور یہ تمام مائگریشن آخرکار مکران کے ساحل اور دریائے ہلمند کے درمیانی علاقوں میں جا کر اختتام پذیر ہوئی۔ بلوچوں نے اس نئے خطے کو اپنا وطن سمجھنا شروع کیا اور اسے اپنا خون جگر بھی دیا۔ اب دنیا اسے انہی کی مناسبت سے بلوچستان کہنے لگی۔ یہاں پہلے سے آباد مسلم درمیانی اور ترک نسل کے لوگوں سے بلوچوں نے تعلقات بڑھائے، شادیاں بھی کیں، اور وقت کے ساتھ ساتھ ان کے کلچر آپس میں مکس ہو گئے۔ جیسا کہ اکثر ہجرتوں کے بعد ہوتا ہے، یہ سب لوگ آہستہ آہستہ ایک ہی بلوچ کلچر کی تصویر پیش کرنے لگے۔


دوستوں، بلوچ تاریخ کا لیجنڈ ورژن اور جدید مؤرخین کا مؤقف ہم نے آپ کے سامنے رکھا ہے۔ ان دونوں ورژنز میں ایک بات مشترک ہے کہ بلوچ تقریباً ایک ہزار برس پر پھیلی ہوئی ہجرت کے نتیجے میں ایران سے بلوچستان پہنچے تھے۔ بلوچوں نے اپنے لیے ایک محفوظ خطہ تو تلاش کر لیا تھا، لیکن ابھی ان میں اتنی سیاسی ہم آہنگی نہیں تھی کہ وہ اس نئے وطن کو ایک ریاست کی شکل دے سکیں اور اسے منظم کر سکیں۔ مگر جب وہ بلوچستان کی فضا میں رچ بس گئے اور قبائل میں ہم آہنگی بڑھ گئی، ان کی آبادی بھی کافی بڑھ گئی، تو یہاں سے بلوچ تاریخ کے ایک نئے ورژن اور ایک نئے دور کا آغاز ہوا۔

یعنی اپنی ریاست کے قیام کی طرف سے ان کا سفر شروع ہوتا ہے۔ اس کی ابتدا چھوٹی چھوٹی قبائلی یونینز سے ہوئی جنہیں ایک طاقتور سردار لیڈ کرتا تھا۔ آپ سمجھیں، چھوٹے چھوٹے ٹرائبز بن گئے تھے، سب ٹرائبز۔ ایسی کئی یونینز مکران، تربت، کچھی، سیستان، ڈیرہ جات اور دیگر علاقوں میں قائم ہوئیں۔ لیکن ان میں سے کوئی بھی اکیلی اتنی طاقتور نہیں تھی کہ وہ سارے ریجن پر اپنا اثر و رسوخ قائم کر سکے اور اسے اپنے کنٹرول میں لے سکے۔


جب ابھی بلوچ قبائل یونینز بنانے کے مرحلے میں تھے تو ان کے ہمسایوں میں بہت بڑی بڑی تبدیلیاں ہو رہی تھیں۔ بلوچستان کے ہمسایہ ایران میں صفوی اور ہندوستان میں مغل امپائر قائم ہوئی۔ اس تبدیلی کا اثر بلوچستان پر بھی پڑا۔ اس کی شروعات یوں ہوئی کہ بلوچوں کے لیجنڈری سردار میر چاکرِ اعظم رند نے سابق مغل شہنشاہ ہمایوں کو سوری پٹھانوں سے دہلی کا تخت واپس لینے کے بعد بلوچستان میں مغل مداخلت اور اثر و رسوخ کا دروازہ کھول دیا۔ مغلوں نے جلدی سے قلات کے علاقے اور کوئٹہ کے گردونواح کا کنٹرول اپنے ہاتھ میں لے لیا اور وہاں اپنے گورنرز مقرر کر دیے۔ تاہم، بلوچ قبائل کو ان کے علاقوں میں خود مختاری برقرار رکھنے دی۔ اسی دوران، صفوی سلطنت (ایرانی سلطنت) نے سیستان و بلوچستان (جو اس وقت بھی ایران کا حصہ تھا)، افغان بلوچ علاقے اور مکران کے ساحل تک اپنا اثر قائم کر لیا۔


سترھویں صدی کے وسط تک پہنچتے پہنچتے ان دونوں سلطنتوں کا بلوچستان پر کنٹرول کمزور پڑنے لگا۔ اس کا فائدہ بلوچوں نے اٹھایا اور ایک خود مختار ریاست قائم کرنے کی کوششیں شروع کیں، جن کی قیادت قلات کے قریب ایک یونین کر رہی تھی۔ یہ بلوچ یونین 1666 میں بروہی قبیلے کے سردار میر احمد کی قیادت میں قائم ہوئی۔ اس وقت ہندوستان پر آخری طاقتور مغل شہنشاہ اورنگزیب عالمگیر کی حکومت تھی۔


میر احمد نے سب سے پہلے بلوچستان سے مغل کنٹرول ختم کیا۔ انہوں نے قلات اور کوئٹہ کو مغلوں سے آزاد کرایا اور بتدریج دیگر آزاد بلوچ قبائل، پٹھانوں اور جاتوں کو اپنے کنٹرول میں لے لیا۔ انہوں نے قلات کو اپنا دارالحکومت بنایا اور وہاں سے باقی بلوچستان پر حکمرانی کرنے لگے۔

مغل شہنشاہ اورنگزیب اس وقت ہندوستان کے دیگر علاقوں میں مرہٹوں اور دیگر باغیوں سے لڑنے میں مصروف تھے، جس کی وجہ سے انہیں بلوچستان جیسے دور دراز علاقے پر توجہ دینے کا موقع نہیں مل سکا۔ اس وقت بلوچوں کے سامنے واحد حریف طاقت ایرانی صفوی سلطنت تھی۔ 1698 میں بلوچوں نے صفوی سلطنت کو ایک فیصلہ کن شکست دی اور موجودہ پاکستانی بلوچستان سے ایرانی اثر و رسوخ کو ختم کر دیا۔ اس کے بعد یہ علاقہ مکمل طور پر ریاست قلات کے زیر اثر آ گیا اور ریاست قلات بلوچوں کی سب سے بڑی سیاسی طاقت کے طور پر مستحکم ہو گئی۔


بلوچوں کی ایرانی سلطنت کے خلاف فتح مغل سلطنت کے لیے ایک بڑی خبر تھی۔ شہنشاہ اورنگزیب عالمگیر نے فیصلہ کیا کہ وہ بلوچوں کو اپنا دوست بنا کر ان کی نئی ریاست کو ہندوستان اور ایران کے درمیان ایک بفر زون کے طور پر استعمال کریں گے۔ چنانچہ انہوں نے بلوچستان پر قلات کی حکومت کو تسلیم کر لیا، یعنی ریاست قلات کو مغل سلطنت کی طرف سے قانونی حیثیت مل گئی۔ مغل شہنشاہ نے خان آف قلات کے لیے دو لاکھ روپے کا وظیفہ مقرر کیا اور سندھ کی بندرگاہ کراچی کو بھی قلات کے کنٹرول میں دے دیا تاکہ وہ تجارت کے لیے اسے استعمال کر سکیں۔ اس کے بعد اگلی ایک صدی بلوچ ریاست کے عروج کا دور ثابت ہوئی۔

اس دور میں بلوچوں کے سب سے کامیاب حکمران نصیر خان اول تھے، جنہوں نے 1748 سے 1794 تک تقریباً چھالیس سال حکومت کی۔ اس دوران بلوچوں نے سیستان (جو صفوی ایرانی سلطنت کا حصہ تھا)، بلوچستان اور افغانستان میں دریائے ہلمند تک کے تمام بلوچ علاقے فتح کر لیے۔ اس طرح پورا بلوچ ریجن پہلی بار ایک ہی بلوچ حکومت کے ماتحت آ گیا۔ یہ وہ دور تھا جب بلوچوں کی ایک بڑی تعداد نے خانہ بدوشی کی زندگی چھوڑ کر شہروں اور قصبوں میں رہنا شروع کر دیا۔ اس سے بلوچ ثقافت، جو مختلف قبائل میں بٹی ہوئی تھی، ایک مشترکہ رواج میں ڈھلنے لگی۔


1794 میں نصیر خان اول کی وفات کے بعد ریاست میں کوئی طاقتور حکمران نہیں آ سکا، اور بلوچوں میں خانہ جنگی شروع ہو گئی۔ اس طرح دیگر سلطنتوں کی طرح، جیسے مغل اور فارسی سلطنتیں، ریاست قلات بھی زوال کا شکار ہو گئی۔ 1838 تک بغاوتوں کی وجہ سے ریاست قلات نے اپنا ایک بڑا علاقہ کھو دیا۔ ایرانی اور افغان بلوچستان کے علاقے خود مختار ہو گئے، اور کراچی پر سندھ کے تالپور حکمرانوں نے قبضہ کر لیا۔ دوسری طرف، ساحلی بندرگاہ گوادر پر عمانی سلطنت نے قبضہ کر لیا۔


گوادر پر عمانی دعویٰ کی بنیاد یہ تھی کہ نصیر خان نے 1783 میں ایک جلاوطن عمانی شہزادے کی مالی مدد کے لیے گوادر کی سالانہ آمدنی اس کے لیے وقف کر دی تھی۔ خان آف قلات کی وفات کے بعد عمانی حکومت نے اس آمدنی کو اصل میں گوادر کی ملکیت کا حق سمجھا اور اس پر قبضہ کر لیا۔

یوں عمانی فورسز نے گوادر کا کنٹرول تو بحال کر لیا، لیکن یہ ریاست قلات کے اندرونی مسائل تھے۔ اصل میں ایک بڑا خطرہ ریاست قلات پر باہر سے منڈلا رہا تھا۔ انیسویں صدی کے آغاز میں، یعنی نصیر خان اول کی وفات کے چند برس بعد، ہندوستان میں ایک بڑی تبدیلی آ گئی۔ چھ ہزار کلومیٹر دور سے آنے والے انگریز تاجروں نے ہندوستان کے بیشتر حصے پر قبضہ کر لیا تھا، اور برطانوی سلطنت کی حدود پنجاب اور سندھ تک پہنچ چکی تھیں۔ برطانوی ایسٹ انڈیا کمپنی ہندوستان کو دونوں ہاتھوں سے لوٹ رہی تھی، مگر انگریزوں کے لیے ایک بڑا خطرہ یہ تھا کہ کہیں "سونے کی اس چڑیا" کو سفید ریچھ نہ لے لے۔


یہ سفید ریچھ یعنی روس کی شہنشاہیت تھی، جس کے شہنشاہ زار کہلاتے تھے۔ روسی فوجیں وسطی ایشیا میں تیزی سے پیش قدمی کر رہی تھیں اور افغانستان کی طرف بڑھ رہی تھیں، اور وہ اس خطے سے ہندوستان پر بھی حملہ آور ہو سکتے تھے۔ کمپنی سرکار یعنی انگریز اس روسی پیش قدمی کو روکنا چاہتے تھے۔ انگریزوں کی خواہش تھی کہ افغانستان کو روسی سلطنت اور برطانوی ہندوستان کے درمیان ایک بفر زون بنا دیا جائے، جس کے لیے انگریز فوج کا افغانستان میں داخل ہونا ضروری سمجھا گیا۔


افغانستان کے اہم شہر قندھار کا راستہ بلوچستان یعنی ریاست قلات سے ہو کر گزرتا تھا، اور اس وقت قلات پر میر محراب خان ثانی کی حکومت تھی۔

انگریزوں نے میر محراب خان سے یہ وعدہ لے لیا کہ وہ برطانوی فوج کو افغانستان جانے کے لیے محفوظ راستہ دیں گے۔ کمپنی سرکار شاید یہ سمجھ رہی تھی کہ خان آف قلات کی گارنٹی کے بعد برطانوی فوج آسانی سے بلوچستان، خاص کر قلات کے علاقے سے گزر جائے گی۔ لیکن انہیں یہ علم نہیں تھا کہ خان آف قلات بلوچ سرداروں پر اپنا اثر کھو چکے تھے اور ان کی گارنٹی بلوچ قبائل کی بڑی آبادی کے نزدیک کوئی اہمیت نہیں رکھتی تھی۔ اس لیے اس معاہدے سے انگریزوں کو خاص فائدہ نہیں ہوا۔


1839 میں جب برطانوی فوج درہ بولان سے گزر رہی تھی تو بلوچ قبائل نے ان پر حملہ کر کے شدید نقصان پہنچایا۔ اس حملے کے بعد برطانوی حکام خان آف قلات کی گارنٹی کے باوجود ان پر ہونے والے حملوں سے غصے میں آ گئے اور میر محراب خان سے ناراض ہو گئے۔ یہ ناراضگی جلد ہی دشمنی میں بدل گئی، اور 1839 میں برطانوی فوج نے ریاست قلات کے دارالحکومت پر قبضہ کر لیا۔


میر محراب خان برطانوی فوج سے لڑتے ہوئے اپنے وطن کے دفاع میں شہید ہو گئے۔ اس کے بعد ریاست قلات برطانوی فوج کے رحم و کرم پر تھی۔ لیکن انگریز سنگلاخ پہاڑوں اور مشکل علاقوں پر براہ راست حکومت کرنے میں دلچسپی نہیں رکھتے تھے۔ انہیں یہاں سے کسی خاص لوٹ مار کی توقع نظر نہیں آ رہی تھی۔ اس لیے انہوں نے ریاست قلات کو نام کی حد تک آزاد چھوڑ دیا، مگر اس کے بعد ریاست کی آزادی محدود کر دی گئی۔

انگریزوں نے ایک معاہدے کے تحت خانگڑ کے بلوچ علاقے میں اپنی فوج تعینات کر دی اور اس کا نام تبدیل کر کے جیکب آباد رکھ دیا، جسے بعد میں سندھ میں شامل کر دیا گیا۔ مگر انگریزوں کی یہ حکمت عملی کہ خان آف قلات کو کنٹرول کر کے بلوچستان کو اپنی مرضی سے چلایا جائے، غلط ثابت ہوئی۔ بلوچ سرداروں کی بغاوتیں معمول بن چکی تھیں، اور ریاست مسلسل خانہ جنگی کا شکار تھی۔ 1876 تک حالات اس قدر خراب ہو گئے کہ انگریزوں نے قلات کو براہ راست کنٹرول میں لینے کا فیصلہ کیا۔


جولائی 1876 میں انگریزوں کے دباؤ پر خان آف قلات، میر خداداد خان نے ایک معاہدے پر دستخط کیے، جسے "ٹریٹی آف قلات" کہا جاتا ہے۔ اس معاہدے کے تحت ریاست قلات کی خارجہ پالیسی اور سیکیورٹی کی ذمہ داری انگریزوں کے پاس چلی گئی۔ قلات میں ایک پولیٹیکل ایجنٹ تعینات کر دیا گیا، جو ریاست کا حقیقی وزیراعظم بن گیا، جبکہ خان آف قلات محض نام کے حکمران رہ گئے۔


انگریزوں نے مری، بگٹی، لسبیلہ، مکران اور خاران کے مقامی حکمرانوں سے معاملات سنبھالنے کے لیے بھی الگ پولیٹیکل ایجنٹس تعینات کیے۔ ساتھ ہی انگریزوں نے کوئٹہ، پشین، سبی، ژوب اور چمن سمیت کئی علاقوں کو ریاست قلات سے الگ کر کے براہ راست اپنے کنٹرول میں لے لیا، جنہیں "برٹش بلوچستان" قرار دیا گیا۔ 1893 میں افغانستان نے بھی چاغی کا علاقہ انگریزوں کے حوالے کر دیا، جسے برٹش بلوچستان کا حصہ بنا دیا گیا۔ اس طرح ریاست قلات کئی حصوں میں بٹ چکی تھی۔

انیسویں صدی کے دوسرے نصف تک پہنچتے پہنچتے نہ صرف ریاست قلات کی آزادی ختم ہو چکی تھی، بلکہ پورا بلوچ علاقہ بھی تین حصوں میں بٹ گیا۔ انگریزوں نے ایران اور افغانستان کے ساتھ بلوچستان کی سرحدوں کا تعین کر دیا۔ ایران کے ساتھ بلوچستان کی سرحد 1871 میں ہی طے ہو گئی تھی، جب ریاست قلات نام کی حد تک آزاد تھی۔ یہ معاہدہ انگریزوں کی مرضی سے ہوا تھا، اور اگرچہ ریاست قلات نے کوئی مزاحمت نہیں کی، پھر بھی اس پر اپنی مہر ثبت کر دی تھی۔


1893 میں افغانستان کے ساتھ سرحد بھی "ڈیورنڈ لائن ایگریمنٹ" کے ذریعے طے کی گئی۔ اس معاہدے کے نتیجے میں سیستان اور بلوچستان کا کچھ حصہ ایران کو دیا گیا، جبکہ افغانستان بھی ایک چھوٹے سے بلوچ علاقے کا مالک بن گیا۔ بلوچستان کا تیسرا اور سب سے بڑا حصہ، جو تقریباً 347,000 مربع کلومیٹر پر مشتمل تھا، برطانوی ہندوستان کے کنٹرول میں رہا۔ آج کے پاکستان کا بلوچستان یہی حصہ ہے، جو برٹش انڈیا کے دور میں انگریزوں کے زیرِ اثر تھا۔ تو دوستو، آپ نے دیکھا کہ کیسے بلوچ قبائل ہزاروں برس کے سفر کے دوران مختلف علاقوں سے گزرتے ہوئے بلوچستان پہنچے۔ اس دوران انہوں نے کئی قوموں کے ثقافتی اثرات کو بھی اپنایا، جس سے ان کی زبان، لہجے اور رسم و رواج میں ایک منفرد امتزاج پیدا ہوا۔ پھر بلوچستان میں آہستہ آہستہ ایک سیاسی سیٹ اپ تشکیل پایا، قبائلی اتحاد وجود میں آئے، اور ایک سیاسی ارتقاء کا سفر شروع ہوا، جس کی تکمیل ریاست قلات پر ہوئی۔ اس ریاست نے سیاسی طاقت اور معاشی خوشحالی کا ایک سنہری دور بھی دیکھا۔ لیکن جیسا کہ تاریخ کا دستور ہے، ہر عروج کو ایک زوال ہوتا ہے۔


رفتہ رفتہ ایک بڑی طاقت، برطانوی سلطنت نے اس ریاست کو اپنے زیر اثر کر لیا۔ بیسویں صدی میں برطانوی سلطنت بھی زوال کا شکار ہونے لگی، اور دو عالمی جنگوں نے انگریزوں کی طاقت کو بُری طرح متاثر کیا۔ آخرکار، ان حالات کے دباؤ میں، برطانوی حکومت ہندوستان چھوڑنے اور اپنے سامراجی بستر کو سمیٹنے پر مجبور ہو گئی۔

ہندوستان میں برطانوی راج کے خاتمے کے بعد دو بڑی ریاستوں، پاکستان اور بھارت نے جنم لیا۔ اس وقت افغانستان اور ایران پہلے ہی خودمختار ریاستوں کے طور پر دنیا کے نقشے پر موجود تھے۔ اب اس بدلی ہوئی دنیا میں بلوچ قوم اور ریاست قلات کو اپنا ایک نیا مقام اور پہچان تلاش کرنا تھی۔ یہی سے ان مسائل کا آغاز ہوتا ہے جو آج تک حل نہیں ہو سکے۔


اس صورتحال پر تفصیل سے بات ہم بلوچستان کی تاریخ کے دوسرے اور آخری حصے میں کریں گے، جس میں ہم یہ جانیں گے کہ ان مسائل نے کیسے جنم لیا اور کن وجوہات کی بنا پر بلوچستان میں مشکلات پیدا ہوتی رہیں۔