بلوچستان کا نام جب بھی میڈیا کی سرخیوں میں آتا ہے، تو اکثر پسماندگی اور چیلنجز کا ذکر ہوتا ہے، لیکن اس دھرتی نے ہمیشہ ایسے ہیرے پیدا کیے ہیں جنہوں نے اپنی محنت سے پورے ملک کا نام روشن کیا ہے۔ ایسی ہی ایک روشن مثال خضدار سے تعلق رکھنے والی زمرد مینگل ہیں، جنہوں نے حال ہی میں ایک ایسی کامیابی حاصل کی ہے جس پر پورا پاکستان اور بالخصوص بلوچستان فخر کر رہا ہے۔ زمرد مینگل کو سوئٹزرلینڈ کے شہر جنیوا میں منعقد ہونے والے ورلڈ اکنامک فورم کے سالانہ اجلاس میں شرکت کی خصوصی دعوت دی گئی ہے، جہاں وہ عالمی اسٹیج پر خضدار اور بلوچستان کے نوجوانوں کی نمائندگی کریں گی۔ ایک ایسے خطے میں جہاں لڑکیوں کے لیے اعلیٰ تعلیم اور آگے بڑھنے کے مواقع محدود رہے ہیں، زمرد طویل عرصے سے لڑکیوں کی تعلیم، سائنس، ٹیکنالوجی اور سماجی کاروباریت کے فروغ کے لیے سرگرم عمل ہیں۔ ورلڈ اکنامک فورم دنیا کے بااثر ترین رہنماؤں اور ماہرین کا ایک ایسا پلیٹ فارم ہے جہاں عالمی مسائل کے حل تلاش کیے جاتے ہیں، اور وہاں خضدار کی ایک نوجوان لڑکی کا پہنچنا اس بات کا ثبوت ہے کہ اگر بلوچستان کی بیٹیوں کو مواقع دیے جائیں تو وہ دنیا کا کوئی بھی میدان فتح کر سکتی ہیں۔ زمرد مینگل کی اس تاریخی کامیابی کے پیچھے جہاں ان کی اپنی انتھک محنت شامل ہے، وہاں ملالہ فنڈ کا کردار بھی انتہائی قابلِ ستائش ہے جس نے بلوچستان کی لڑکیوں کے لیے ایسے سازگار حالات اور پلیٹ فارمز مہیا کیے جہاں وہ اپنی قائدانہ صلاحیتوں کو نکھار سکیں۔ یہ خبر بین الاقوامی سطح پر بلوچستان کا ایک مثبت، ترقی پسند اور باصلاحیت چہرہ پیش کرتی ہے اور خضدار کے دور دراز علاقوں کی لاکھوں لڑکیوں کو یہ یقین دلاتی ہے کہ ان کے خواب بھی سچے ہو سکتے ہیں۔ زمرد مینگل کی جنیوا روانگی صرف ایک فرد کی کامیابی نہیں ہے بلکہ یہ بلوچستان کی ہر اس لڑکی کی جیت ہے جو آگے بڑھنے کا عزم رکھتی ہے، اور ہمیں پوری امید ہے کہ وہ اس عالمی فورم پر بلوچستان کی نوجوان نسل کی ایک مؤثر ترین آواز بن کر ابھریں گی۔

Social Plugin