میر چاکر اعظم رند اور میر گہرام خان کے درمیان تاریخی عہد نامہ
یہ پکا اور سچا عہد نامہ ہے جو اللہ کے بندوں، عالی شان میر چاکر اعظم خانی اور بلند مرتبہ میر گہرام خانی کے درمیان ہمیشہ کی دوستی، بھائی چارے، اتحاد، دلی خوشی اور یکجہتی کے لیے طے پایا ہے۔ ماضی میں گردشِ زمانہ اور وقت کے بدلتے رنگوں کی وجہ سے دونوں طرف سے ناخوشگوار حالات اور دشمنی پیدا ہو گئی تھی، اور اس فتنہ انگیز جنگ کی آگ نے دونوں قبیلوں کے بہت سے نوجوانوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا۔ اس جنگ نے سالہا سال تک طول پکڑا اور ایک دوسرے کے قتل اور بربادی کے سوا کچھ حاصل نہ ہوا۔ چونکہ اس فانی دنیا کا کوئی اعتبار نہیں، اس لیے ہمارے لیے ذاتی طور پر یہ لازم ہے کہ ہم پرانی روایت کے مطابق آپس میں دوستی اور محبت کی بنیاد کو دوبارہ مضبوط کریں۔ اب ہم مزید خونریزی اور بربادی سے باز رہیں گے اور باہم صلح، دوستی اور بھائی چارے کا عہد کرتے ہیں۔ ہم نے اس کلام اللہ (قرآن مجید) کو اپنے درمیان ضامن اور گواہ بنایا ہے اور زمین و آسمان کے پیدا کرنے والے خدا اور آخری رسول ﷺ کو حاضر ناظر جان کر عہد کیا ہے۔ قرآن پاک کی مبارک آیت "اے ایمان والو! اپنے عہد و پیمان پورے کرو" کے تحت ہم نے یہ پکا عہد باندھا ہے اور ظاہر و باطن میں دوستی و محبت کو برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ آج کے بعد ہم ایک دوسرے کے دوست اور بھائی بن کر رہیں گے، ایک دوسرے کے دوست کو اپنا دوست اور ایک دوسرے کے دشمن کو اپنا دشمن سمجھیں گے اور اس عہد و میثاق سے بال برابر بھی انحراف نہیں کریں گے۔ جب تک عالی شان میر گہرام خان کی جانب سے اس عہد میں کوئی فرق نہیں آئے گا، اللہ کے فضل سے اس بندہ خدا (میر چاکر) کی طرف سے بھی کوئی فرق نہیں آئے گا۔ اگر دونوں فریقوں میں سے کسی نے بھی اس عہد نامے کی بال برابر بھی مخالفت کی، تو وہ دنیا میں ملعون اور اللہ و رسول کے غضب کا شکار ہوگا، اور قیامت کے دن خدا اور رسول خدا ﷺ کے سامنے شرمسار ہوگا۔ قرآنِ کریم اور رب العالمین کا کلام اس کا اور اس کے ساتھیوں کا دشمن ہوگا۔ ہم اللہ تعالیٰ سے یہ التجا اور امید رکھتے ہیں کہ وہ دونوں طرف کے اس عہد کو نسل در نسل برقرار اور قائم رکھے۔ اس پکے اور مستحکم عہد کے لیے یہ چند حروف تحریر کیے گئے، بتاریخ 25 شہرِ رجب المرجب 957 ہجری۔
اس معاہدے کا سب سے بڑا اور فوری فائدہ رند اور لاشار قبائل کے درمیان گزشتہ تیس سال سے جاری تباہ کن جنگ کا مکمل خاتمہ تھا۔ اس طویل جنگ نے نہ صرف دونوں قبیلوں کی افرادی قوت کو شدید نقصان پہنچایا تھا، بلکہ بلوچستان کے وسطی خطے کی معیشت، زراعت اور تجارتی راستوں کو بھی مفلوج کر دیا تھا۔ صلح نامے کے بعد قبائلی عصبیت کا زور ٹوٹا اور خطے میں پہلی بار پائیدار امن قائم ہوا، جس سے عام لوگوں کو سکون نصیب ہوا اور دونوں قبیلوں کے درمیان نہ ختم ہونے والی دشمنی، رشتہ داریوں اور بھائی چارے میں تبدیل ہو گئی۔
سیاسی اور سیکیورٹی کے لحاظ سے اس معاہدے نے "مشرقِ وسطیٰ اور ہند" کی ابھرتی ہوئی سلطنتوں کے سامنے بلوچوں کا دفاع مضبوط کیا۔ معاہدے میں شامل اس شق نے کہ "ایک کا دشمن دوسرے کا دشمن ہوگا"، دونوں طاقتور ترین قبائل کو ایک مشترکہ دفاعی بلاک میں تبدیل کر دیا۔ یہی وجہ ہے کہ جب مغل شہنشاہ ہمایوں کو اپنی سلطنت کی بحالی کے لیے فوجی مدد کی ضرورت پڑی، تو میر چاکر اعظم رند نے ایک متحد قوت کے ساتھ دہلی کی طرف پیش قدمی کی اور مغل سلطنت کی واپسی میں کلیدی کردار ادا کیا۔ اگر یہ صلح نہ ہوتی، تو داخلی انتشار کے باعث بلوچ قبائل کبھی بھی اتنی بڑی بیرونی مہم جوئی کے قابل نہ ہو پاتے۔
جغرافیائی اور تزویراتی لحاظ سے اس صلح نے بلوچ قبائل کی ہجرت اور نئے علاقوں میں آباد کاری کے راستے کھولے۔ جنگ کے خاتمے کے بعد میر چاکر اعظم رند اپنے قبیلے کے بڑے حصے کے ساتھ پنجاب (ملتان اور ساہیوال کے اضلاع) کی طرف منتقل ہوئے، جبکہ میر گہرام خان کے ساتھیوں نے سندھ اور بلوچستان کے دیگر میدانوں کا رخ کیا۔ اس جغرافیائی پھیلاؤ نے بلوچ ثقافت, زبان اور سیاسی اثر و رسوخ کو پورے برصغیر میں پھیلا دیا۔ اگرچہ اس صلح کے بعد قبیلوں کی مرکزیت وہ نہ رہی جو سبی اور قلات کے دور میں تھی، لیکن اس نے بلوچ شناخت کو ایک نئی اور وسیع تر وسعت عطا کی۔
منفی یا کمزور پہلو کے طور پر اگر دیکھا جائے، تو یہ صلح اگرچہ سرداروں کی زندگی میں نسل در نسل نافذ رہنے کے دعوے کے ساتھ کی گئی تھی، لیکن طویل جنگ کی وجہ سے قبائلی ساخت کو جو مستقل نقصان پہنچ چکا تھا، اس کا مداوا نہ ہو سکا۔ یکجا بلوچ ریاست کا جو خواب میر چاکر اعظم کے دورِ عروج میں دیکھا گیا تھا، وہ اس جنگ کی ہولناکیوں کے باعث ہمیشہ کے لیے بکھر گیا۔ صلح نے جنگ تو روک دی، لیکن وہ متحدہ مرکزی بلوچ کنفیڈریشن دوبارہ قائم نہ ہو سکی جو جنگ سے پہلے موجود تھی، اور بعد میں بلوچ سیاست چھوٹے چھوٹے نیم خودختار نوابوں اور سرداروں میں تقسیم ہو گئی۔
حاصلِ کلام یہ ہے کہ یہ بعد از معاہدہ رپورٹ یہ ثابت کرتی ہے کہ میر چاکر اعظم اور میر گہرام خان کے درمیان صلح کا یہ فیصلہ تاریخ کا ایک انتہائی دانشمندانہ اقدام تھا۔ اس نے نہ صرف ایک نسل کو مکمل تباہی سے بچایا، بلکہ بلوچوں کو برصغیر کی تاریخ میں ایک اہم عسکری اور سیاسی قوت کے طور پر زندہ رکھا۔ یہ معاہدہ آج بھی اس بات کی علامت ہے کہ قبائلی جنگوں کا حل صرف اور صرف باہمی احترام، برداشت اور سیاسی تدبر کے ذریعے ہی ممکن ہے۔


Social Plugin