پنجگور میں خوفناک حادثہ: زمیاد گاڑی میں تیل اسمگلنگ نے 8 جانیں نگل لیں

 بلوچستان کے ضلع پنجگور میں سی پیک روڈ پر ایک مسافر بس اور ایرانی تیل سے بھری زمیاد گاڑی کے درمیان تصادم نے خوفناک شکل اختیار کرلی۔ حادثے کے نتیجے میں دونوں گاڑیوں میں آگ بھڑک اٹھی، جس کے باعث 8 افراد جھلس کر جاں بحق جبکہ متعدد زخمی ہوگئے۔


پولیس ذرائع کے مطابق حادثہ تیز رفتاری کے باعث پیش آیا، تاہم اصل نقصان کی بڑی وجہ وہ زمیاد گاڑی تھی جو ایرانی ڈیزل اور پٹرول سے بھری ہوئی تھی۔ تصادم کے فوراً بعد گاڑی آگ کا گولہ بن گئی اور شعلے بس تک جا پہنچے، جس کے نتیجے میں قیمتی انسانی جانیں ضائع ہوگئیں۔


ابتدائی طور پر 5 افراد کی ہلاکت کی اطلاع ملی تھی لیکن مزید زخمیوں کے دم توڑنے کے بعد جاں بحق افراد کی تعداد 8 ہوگئی۔ لاشوں اور زخمیوں کو فوری طور پر ٹیچنگ ہسپتال پنجگور منتقل کردیا گیا، جہاں علاج معالجہ جاری ہے۔


بلوچستان میں ایرانی تیل کی اسمگلنگ کے لیے استعمال ہونے والی زمیاد گاڑیاں بارود سے بھرے بم کی مانند ہوتی ہیں۔ ان میں درجنوں ڈرم اور کین بھر کر پٹرول و ڈیزل منتقل کیا جاتا ہے، جو کسی بھی معمولی ٹکر یا چنگاری پر تباہی مچا دیتا ہے۔ اسی نوعیت کے متعدد واقعات ماضی میں بھی سامنے آ چکے ہیں، جن میں درجنوں قیمتی جانیں ضائع ہوئیں۔


گزشتہ برس تربت اور کیچ کے علاقوں میں اسی طرح کے حادثات رونما ہوئے تھے جہاں زمیاد گاڑیوں میں موجود تیل کے دھماکے نے پورے علاقے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ اسی طرح لسبیلہ اور خضدار میں بھی درجنوں ہلاکتیں رپورٹ ہوئیں، جس کے باوجود یہ خطرناک اسمگلنگ کا سلسلہ تاحال جاری ہے۔