ڈیسک: سوشل میڈیا اور میسجنگ ایپ واٹس ایپ (WhatsApp) جلد ہی ایک ایسا فیچر متعارف کرانے جا رہی ہے جو صارفین کے رابطے کے انداز کو بالکل بدل کر رکھ دے گا۔ اس نئے 'یوزر نیم فیچر' کے تحت اب صارفین کو کسی سے رابطہ کرنے کے لیے اپنا فون نمبر ظاہر کرنے کی ضرورت نہیں ہوگی، بلکہ وہ صرف ایک یوزر نیم کے ذریعے بھی چیٹ کر سکیں گے۔ بظاہر یہ فیچر پرائیویسی کے تحفظ کے لیے ایک بہترین اور جاندار قدم دکھائی دیتا ہے، لیکن پاکستان سمیت دنیا بھر کے ٹیک ماہرین اور سکیورٹی اداروں نے اس پر انتہائی سنجیدہ تحفظات کا اظہار کیا ہے جنہیں کسی صورت نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ اصل سوال یہ نہیں کہ پرائیویسی ہونی چاہیے یا نہیں، بلکہ اصل تشویش یہ ہے کہ کیا پرائیویسی کے نام پر ایک ایسا نظام متعارف کرایا جا رہا ہے جو اسکیمرز، فیک اکاؤنٹس، اور سائبر کرمنلز کے لیے لوٹ مار کا ایک نیا اور آسان راستہ کھول دے گا؟
اس فیچر کے آنے کے بعد سب سے بڑا خطرہ یہ پیدا ہوگا کہ اگر کوئی شخص اپنا فون نمبر ظاہر کیے بغیر کسی دوسرے صارف سے رابطہ کرتا ہے تو عام صارف کے لیے یہ جانچنا ناممکن ہو جائے گا کہ سامنے والا واقعی وہی شخص، ادارہ، کمپنی یا نمائندہ ہے جس کا وہ دعویٰ کر رہا ہے۔ یہی سب سے بڑی کمزوری فیشنگ (Phishing)، فیک کسٹمر سپورٹ، جعلی بینک نمائندوں، انویسٹمنٹ اسکیمز، ڈیجیٹل فراڈ، فیک گورنمنٹ اکاؤنٹس اور سوشل انجینئرنگ کے لیے ہتھیار کے طور پر استعمال ہو سکتی ہے۔ سب سے بڑا خدشہ آفیشل آئیڈنٹٹیز کے غلط استعمال کا ہے، کیونکہ اگر کسی نے کسی سرکاری ادارے، بینک، مالیاتی ادارے، معروف کاروبار، پبلک فگر، صحافی، سیاستدان یا سلیبریٹی سے ملتا جلتا یوزر نیم بنا لیا تو عام صارف بہت آسانی سے دھوکہ کھا سکتا ہے۔ واٹس ایپ جیسے بڑے پلیٹ فارم پر، جہاں کروڑوں لوگ روزانہ ذاتی، کاروباری اور مالی نوعیت کی گفتگو کرتے ہیں، فیک آئیڈنٹٹی کا ایک چھوٹا سا لوپ ہول بھی بڑے پیمانے پر مالی اور سماجی نقصان کا باعث بن سکتا ہے۔
دوسرا اہم مسئلہ فراڈ اور سوشل انجینئرنگ کی لہر میں تیزی آنا ہے۔ آج بھی واٹس ایپ پر فیک لنکس، جعلی کسٹمر سپورٹ، لون اسکیمز، انعامی لالچ اور فیملی ایمرجنسی اسکیمز عام ہیں، لیکن اب جب یوزر نیم کے ذریعے رابطہ ممکن ہوگا اور فون نمبر ابتدائی طور پر نظر نہیں آئے گا، تو اسکیمرز کے لیے اپنی اصل شناخت چھپانا نسبتاً بہت آسان ہو جائے گا۔ اس تبدیلی سے عام صارفین، خاص طور پر بزرگ افراد، کم تعلیم یافتہ طبقے اور آن لائن فراڈ سے کم واقف لوگوں کے لیے سکیورٹی خطرات کئی گنا بڑھ جائیں گے۔ اس کے ساتھ ہی، تیسرا بڑا سوال ٹریسیبلٹی (Traceability) اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارروائی پر اٹھتا ہے۔ اگر کوئی شخص یوزر نیم کا سہارا لے کر فراڈ، ہراساں، بلیک میلنگ یا کوئی بڑا سائبر کرائم کرتا ہے تو متاثرہ شخص کے لیے اس کا سراغ لگانا پہلے سے زیادہ مشکل ہو جائے گا، جس سے شکایات کے اندراج، تفتیش اور قانونی کارروائی میں نئی پیچیدگیاں پیدا ہوں گی۔ بلاشبہ پرائیویسی کا تحفظ ضروری ہے، لیکن سائبر کرائم کا شکار ہونے والے مظلوموں کے لیے انصاف تک رسائی بھی اتنی ہی لازمی ہے، اس لیے اس فیچر کو لانے سے پہلے سکیورٹی کے فول پروف اقدامات بے حد ضروری ہیں۔

Social Plugin