بلوچستان کے مسائل کا حل صرف جمہوری جدوجہد میں ہے، بندوق کے راستے کو عوامی حمایت حاصل نہیں: ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ



کوئٹہ: نیشنل پارٹی کے سربراہ اور سابق وزیراعلیٰ بلوچستان ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے صوبے کی موجودہ سیاسی و سیکیورٹی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ بلوچستان میں سرگرم شورش پسند عناصر کو عوام کی کوئی حمایت یا اخلاقی جواز حاصل نہیں ہے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ تشدد اور بندوق کا راستہ بلوچستان کے سلگتے ہوئے مسائل کا حل نہیں ہو سکتا۔
ایک حالیہ تقریب اور میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے قوم پرست رہنما کا کہنا تھا کہ دہائیوں پر محیط شورش نے بلوچستان کو پسماندگی اور عدم استحکام کے سوا کچھ نہیں دیا۔ انہوں نے کہا کہ جو عناصر یہ سمجھتے ہیں کہ وہ طاقت یا تشدد کے بلبوتے پر حقوق حاصل کر سکتے ہیں، وہ غلط فہمی کا شکار ہیں، کیونکہ صوبے کی اکثریت پرامن ہے اور وہ گولی کے بجائے ترقی اور خوشحالی چاہتی ہے۔

ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے اپنے بیان میں وفاقی اور صوبائی حکومتوں سمیت تمام اسٹیک ہولڈرز پر زور دیا کہ بلوچستان کے حقیقی مسائل کا حل صرف اور صرف آئینی دائرے میں رہتے ہوئے جمہوری اور پارلیمانی جدوجہد میں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ نیشنل پارٹی ہمیشہ سے یہ موقف رکھتی ہے کہ صوبے کے عوام کے سیاسی، معاشی اور ساحل و وسائل پر اختیارات کی جنگ پارلیمنٹ کے فورم سے ہی جیتی جا سکتی ہے۔