ملک بھر میں مون سون کا نیا طاقتور سسٹم داخل: مختلف علاقوں میں طوفانی بارشوں اور اربن فلڈنگ کا خطرہ

 


بڑے شہروں میں تیز ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ بادل برسنے کا امکان، نشیبی علاقوں کے لیے الرٹ جاری
ملک کے بالائی اور وسطی حصوں میں گرج چمک اور تیز ہواؤں کے ساتھ طوفانی بارشوں کا ایک نیا اور طاقتور مون سون سلسلہ شروع ہو چکا ہے، جس کے باعث مختلف علاقوں میں الرٹ جاری کر دیا گیا ہے۔ سمندر سے اٹھنے والی نم آلود ہوائیں اور مغربی ہواؤں کا ایک بڑا سلسلہ اس وقت ملک کے بالائی علاقوں پر اثر انداز ہو رہا ہے، جس کی وجہ سے اگلے دو سے تین دن تک موسلادھار بارشوں کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔ اس شدید موسمی نظام کی وجہ سے بڑے شہروں کے نشیبی علاقوں میں اربن فلڈنگ (شہری سیلاب) کا شدید خطرہ پیدا ہو گیا ہے، جبکہ ندی نالوں میں طغیانی اور پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ کے پیشِ نظر احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
بڑے شہروں میں موسم کی تازہ ترین صورتحال
لاہور: گزشتہ شام مختلف علاقوں میں ہونے والی تیز بارش سے حبس کا زور تو ٹوٹ گیا، لیکن شہر میں اگلے 48 گھنٹوں کے دوران مزید طوفانی بارشوں کی پیشگوئی ہے جس سے نشیبی علاقوں میں پانی جمع ہونے اور ٹریفک کا نظام درہم برہم ہونے کا خدشہ ہے۔
کراچی اور حیدرآباد: ان بڑے ساحلی شہروں میں فی الحال موسم شدید گرم اور مرطوب رہے گا، جہاں درجہ حرارت 34 سے 37 ڈگری سینٹی گریڈ تک جا سکتا ہے۔ تاہم، مطلع جزوی طور پر ابر آلود رہنے اور مضافاتی علاقوں میں ہلکی بونداباندی یا گرج چمک کا امکان موجود ہے۔
اسلام آباد اور راولپنڈی: جڑواں شہروں میں بادلوں کا راج ہے اور وقفے وقفے سے تیز ہواؤں کے ساتھ موسلا دھار بارش کا سلسلہ جاری ہے۔ برساتی نالوں میں پانی کی سطح کی مسلسل نگرانی کی جا رہی ہے تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال سے بروقت نمٹا جا سکے۔
پشاور: صوبائی دارالحکومت سمیت بالائی اضلاع میں تیز آندھی اور گرج چمک کے ساتھ بادل برسنے کی توقع ہے، جس سے گرمی کی شدت میں واضح کمی آئے گی لیکن شہری علاقوں میں عارضی طور پر پانی جمع ہو سکتا ہے۔
کوئٹہ اور بلوچستان: صوبے کے بیشتر وسطی و جنوبی میدانی علاقے شدید گرمی کی لپیٹ میں رہیں گے جہاں کچھ مقامات پر پارہ 44 ڈگری سے اوپر جا سکتا ہے، البتہ مشرقی حصوں کے چند مقامات پر مقامی طور پر گرج چمک کے طوفان بن سکتے ہیں۔
پہاڑی راستوں پر سفر کرنے والے سیاحوں اور مقامی آبادی کو شدید لینڈ سلائیڈنگ کے خطرات کے باعث غیر ضروری سفر سے گریز کرنے کی سخت ہدایت کی گئی ہے۔ مقامی انتظامیہ کو کسی بھی ناگہانی صورتحال سے نمٹنے کے لیے تیار رہنے کا کہا گیا ہے تاکہ نکاسی آب اور امدادی کاموں کو فوری یقینی بنایا جا سکے۔