سرابِ انقلاب اور حقیقتِ امن: تاریخ کی گواہی اور ہمارا شعور



تحریر: مسٹر پاکستانی
تاریخ کے جھرونکوں سے اگر گزری ہوئی قوموں کے احوال کا مطالعہ کیا جائے، تو ایک سچائی روزِ روشن کی طرح عیاں ہوتی ہے: قومیں تب تباہ نہیں ہوتیں جب ان پر بیرونی دشمن حملہ آور ہو، بلکہ قومیں تب خاک میں ملتی ہیں جب ان کے اپنے اندر کا شعور مر جاتا ہے اور وہ نادانی میں اپنے ہی محافظوں کے خلاف صف آرا ہو جاتی ہیں۔
جذبات اور انقلاب کی باتیں سننے میں بہت پرکشش لگتی ہیں، لیکن تاریخ گواہ ہے کہ جب تک جذبات کو شعور کی روشنی نہ ملے، وہ صرف خودکشی کا راستہ ہموار کرتے ہیں۔ اصل انقلاب بندوق اٹھانے یا ریاست کے خلاف نعرے لگانے میں نہیں، بلکہ اپنے ہی گھر اور صفوں میں پنپنے والے امن دشمن عناصر کو پہچاننے اور ان کا راستہ روکنے میں ہے۔
کسی مفکر نے کیا خوب کہا تھا:
وقت کرتا ہے پرورش برسوں
حادثہ ایک دم نہیں ہوتا

  •  روم کی عظیم الشان سلطنت کسی بیرونی طاقت کی وجہ سے بیک وقت زمین بوس نہیں ہوئی تھی۔ تاریخ دان لکھتے ہیں کہ روم کی جڑیں تب کھوکھلی ہوئیں جب اس کے اپنے شہریوں نے سستی بہادری کے نعروں، اندرونی انتشار اور بیرونی غارت گروں کے لیے ہمدردی پیدا کر لی۔ جب سرحدوں کی حرمت پامال ہوئی، بیرونی عناصر کو گلے لگایا گیا اور محافظوں کی اہمیت کو نظرانداز کیا گیا، تو سلطنت کے اپنے ہی ستون گر گئے۔ نتیجہ یہ نکلا کہ جو روم دنیا پر راج کرتا تھا، وہ تاریخ کا عبرت ناک باب بن گیا۔
  •  یہی المیہ اندلس (اسپین) کی تاریخ میں بھی دہرایا گیا۔ جب تک وہاں کے باسی متحد رہے، وہ علم اور امن کا گہوارہ بنے رہے۔ لیکن جیسے ہی وہاں گروہی مفادات، جذباتیت اور اپنے ہی حفاظتی اداروں کے خلاف اندرونی سازشوں نے جنم لیا، پائیدار امن کا خواب بکھر گیا۔ بیرونی عناصر نے پہلے ان کے اندرونی دفاعی نظام کو کمزور کیا، اور جب دفاعی حصار ٹوٹا تو پھر کسی ایک فرد یا قبیلے کو امان نہ ملی۔ اندلس کی گلیاں خون سے رنگ گئیں اور صدیوں کی تہذیب پل بھر میں راکھ کا ڈھیر بن گئی۔
  •  موجودہ دور کی مثالیں بھی ہمارے سامنے چیخ چیخ کر یہی سبق دہرا رہی ہیں۔ ان ممالک کی تباہی کا آغاز کسی بیرونی فوج کے براہِ راست حملے سے نہیں ہوا تھا، بلکہ اس کا آغاز خوبصورت اور پرکشش نعروں سے ہوا تھا۔ آزادی اور نام نہاد انقلاب کے نام پر وہاں کے عوام کو اپنے ہی ریاستی اور حفاظتی اداروں کے خلاف کھڑا کیا گیا۔ جذبات کے سیلاب میں ہوش کا دامن چھوٹ گیا۔ لیکن انجام کیا ہوا؟ جب وہ حفاظتی ادارے کمزور پڑے جو عوام کی ڈھال تھے، تو دہشت گردوں اور شرپسندوں نے پورے ملک کو یرغمال بنا لیا۔ آج ان ممالک کا بچہ بچہ امن کی ایک ایک سانس کو ترستا ہے، کیونکہ جب ریاست کمزور ہوتی ہے تو پھر کوئی بھی عام شہری ان کے ظلم کی زد سے محفوظ نہیں رہتا۔
جب معاشرے میں کچھ لوگ نادانی، سیاسی وابستگی یا مخصوص مفادات کے تحت دہشت گردوں اور شرپسندوں کے لیے نرم گوشہ پیدا کرتے ہیں، تو وہ اصل میں اپنے ہی پاؤں پر کلہاڑی مار رہے ہوتے ہیں۔ سرحدوں کی حرمت کو پامال کرنا، سرحدی پٹی کو مسترد کرتے ہوئے سرحد پار سے آنے والے خارجیوں کو اپنے گھروں میں پناہ دینا اور اپنے ہی محافظوں کے خلاف کھڑے ہونا کوئی بہادری نہیں ہے۔ یہ وہ باریک اور خطرناک موڑ ہے جہاں نادانستگی میں دشمن کے ایجنڈے کو تقویت ملتی ہے۔
دہشت گرد کا کوئی دین، کوئی قبیلہ اور کوئی نظریہ نہیں ہوتا؛ اس کا واحد مقصد صرف خون بہانا اور خوف پھیلانا ہے۔ یہ شرپسند عناصر سب سے پہلے ان اداروں کو نشانہ بناتے ہیں اور ان کے خلاف نفرت پھیلاتے ہیں جو عوام کی حفاظت کے لیے سینہ سپر ہیں۔ ان کا ہدف بہت واضح ہے: اگر خدانخواستہ ریاست اور اس کے حفاظتی ادارے کمزور پڑ گئے، تو پھر کوئی بھی عام شہری ان کے ظلم سے محفوظ نہیں رہے گا۔ ہر گلی، ہر بازار اور ہر گھر ان کے نشانے پر ہوگا۔
ہمیں اپنے ذہنوں سے یہ بات گہرائی سے نکالنی ہوگی کہ ریاستی اداروں کے خلاف تقریروں کو بہادری سمجھنے کا خبط ایک ذہنی سراب ہے۔
آئینِ نو سے ڈرنا، طرزِ کہن پہ اڑنا
منزل یہی کٹھن ہے قوموں کی زندگی میں

 

انقلاب اور تبدیلی کا راستہ نعروں کی گونج سے نہیں، بلکہ شعور، یکجہتی اور امن کے نور سے منور ہوتا ہے۔ سچی بہادری یہ نہیں کہ ہم جذبات کی رو میں بہہ کر دشمن کے آلے کار بن جائیں۔ حقیقی بہادری یہ ہے کہ ہم اپنے صفوں میں گھسے ہوئے ان بیرونی اور اندرونی سازش کاروں کو پہچانیں جو امن کی آڑ میں بدامنی کا زہر گھول رہے ہیں۔
آج اگر ہم امن کا مطالبہ کرتے ہیں، تو ہمیں اس کی قیمت بھی چکانی ہوگی۔ اور وہ قیمت ہے: ہوش، یکجہتی اور غیر مشروط حب الوطنی۔ جب تک ہم سب مل کر ایک مضبوط دیوار نہیں بنیں گے اور اپنے محافظوں کے ہاتھ مضبوط نہیں کریں گے، تب تک پائیدار امن کا خواب ادھورا رہے گا۔ اگر ہم نے ماضی کے ان عالمی واقعات سے سبق نہ سیکھا اور اپنے جذبات کو ہوش کے تابع نہ کیا، تو تاریخ کسی کے ساتھ رعایت نہیں کرتی۔ یہ دھرتی ہم سب کا مشترکہ اثاثہ ہے، اور اس کی بقا صرف اور صرف اس صورت میں ممکن ہے جب ہم اپنی ڈھال کو مضبوط رکھیں اور امن دشمنوں کے سامنے سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن جائیں۔