کراچی
انسدادِ دہشتگردی کی عدالت نے بھارتی خفیہ ایجنسی "را" کے ایجنٹ سلیم کو 114 سال قید کی سزا سنا دی ہے۔ عدالت نے فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ ملزم کے خلاف شواہد ٹھوس ہیں اور ریاست مخالف سرگرمیوں میں ملوث عناصر کے لیے کسی رعایت کی گنجائش نہیں۔
تفتیشی ریکارڈ کے مطابق سلیم 1989 میں غیر قانونی طور پر بھارت سے پاکستان آیا اور یہاں جعلی دستاویزات بنا کر خود کو پاکستانی شہری ظاہر کرتا رہا۔ اس کے قبضے سے متعدد پاکستانی پاسپورٹ برآمد ہوئے جنہیں وہ مختلف ادوار میں استعمال کرتا رہا۔
ملزم نے دورانِ تفتیش بتایا کہ وہ بھارت کے شہر بھوج (گجرات) میں رکشہ چلاتا رہا ہے، اور 2012 سے 2014 کے درمیان کم از کم تین مرتبہ بھارت گیا۔ ان سفرات کے لیے اس نے نیپال کے راستے کا استعمال کیا تاکہ براہِ راست پکڑے جانے سے بچ سکے۔
سلیم کو قانون نافذ کرنے والے اداروں نے کراچی کے علاقے ماڑی پور سے گرفتار کیا تھا۔ اس کے قبضے سے دستی بم، آوان بم، راکٹ لانچر اور دیگر غیر قانونی اسلحہ برآمد ہوا۔ ملزم نے تفتیش کے دوران بھارتی خفیہ ایجنسی "را" سے روابط اور پاکستان میں دہشتگردانہ منصوبہ بندی میں شمولیت کا اعتراف کیا۔
عدالت نے کہا کہ ملزم پر دہشتگردی، تخریب کاری، غیر قانونی اسلحہ رکھنے اور ریاست مخالف سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے الزامات ثابت ہوئے۔ لہٰذا اسے مجموعی طور پر 114 سال قید کی سزا سنائی جاتی ہے۔
یہ فیصلہ پاکستان میں دہشتگردی کے خلاف جاری جدوجہد میں ایک اہم سنگِ میل قرار دیا جا رہا ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ دشمن ممالک کے ایجنٹ چاہے کتنی ہی گہری جڑیں کیوں نہ بنا لیں، قانون کے کٹہرے سے بچ نہیں سکتے۔

Social Plugin