بلوچستان: منگوچر کے علاقے کورکائی میں قبائلیوں اور بی ایل اے دہشتگردوں کے درمیان جھڑپ، 4 دہشتگرد ہلاک

 منگوچر (کورکائی) سے مقامی ذرائع کے مطابق لانگو قبیلے اور کالعدم تنظیم فتنہ الہندوستان (بی ایل اے) کے دہشتگردوں کے درمیان جھڑپ میں 4 دہشتگرد ہلاک اور 2 زخمی ہوگئے۔ اس دوران شاکر سعداللہ لانگو گروہ کے ایک قبائلی شخص جاں بحق جبکہ 2 دیگر زخمی ہوئے۔


ذرائع کے مطابق لانگو قبائل طویل عرصے سے بی ایل اے دہشتگردوں کی کارروائیوں سے تنگ آ چکے ہیں اور اب اپنے علاقوں سے ان کے اثر و رسوخ کو ختم کرنے کے لیے عملی میدان میں آ گئے ہیں۔ مقامی لوگوں نے واضح کیا کہ دہشتگردوں نے علاقے میں خوف و ہراس پھیلانے اور ٹیکس وصولی کی کوشش کی، جس پر قبائل نے مزاحمت کی اور مسلح جھڑپ چھڑ گئی۔


بلوچستان کے مختلف علاقوں میں بی ایل اے اور اس جیسی کالعدم تنظیمیں طویل عرصے سے مقامی آبادی کو نشانہ بناتی آئی ہیں۔ ان دہشتگرد گروہوں نے نہ صرف ترقیاتی منصوبوں پر حملے کیے بلکہ مقامی افراد سے بھتہ وصولی، اغواء برائے تاوان اور قتل و غارت گری جیسے جرائم بھی جاری رکھے۔


لانگو قبیلہ ماضی میں بھی دہشتگردوں کے خلاف آواز بلند کرتا رہا ہے۔ حالیہ برسوں میں قبائلی عوام کے اندر یہ احساس مزید بڑھا ہے کہ دہشتگردوں کی موجودگی سے ان کے علاقے عدم استحکام اور غربت کا شکار ہو رہے ہیں۔ اس پس منظر میں کورکائی کی جھڑپ کو مقامی قبائل کے اس عزم کی علامت قرار دیا جا رہا ہے کہ وہ اپنی سرزمین کو دہشتگردوں سے پاک کرنے کے لیے خود بھی قربانیاں دینے کو تیار ہیں۔


مبصرین کے مطابق بلوچستان میں عوامی اور قبائلی سطح پر دہشتگردی کے خلاف مزاحمت ایک مثبت اشارہ ہے، کیونکہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ دہشتگرد اب صرف سکیورٹی فورسز کے نہیں بلکہ مقامی عوام کے بھی سامنے کھڑے ہیں۔ یہ صورتحال ان گروہوں کے لیے ایک بڑا دھچکا ہے، جو برسوں سے عوامی حمایت کے دعوے کرتے آ رہے ہیں۔