قلات اور مستونگ کے پہاڑی سلسلوں میں سکیورٹی فورسز کا بڑا ایکشن: فتنہ الہندوستان کے11 دہشت گرد ہلاک

 


سکیورٹی فورسز کا بڑا ایکشن: قلات اور مستونگ کے پہاڑی سلسلوں میں فتنہ الہندوستان کے 
11 دہشت گرد ہلاک

بلوچستان کے شورش زدہ اضلاع قلات اور مستونگ کے دشوار گزار پہاڑی سلسلوں میں سکیورٹی فورسز کی جانب سے دہشت گردوں کے خلاف ایک بڑی اور فیصلہ کن کارروائی کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ مقامی اور ابتدائی ذرائع کے مطابق، ان دو مختلف مقامات پر ہونے والی جھڑپوں اور گھیراؤ کے نتیجے میں مجموعی طور پر 11 دہشت گرد ہلاک ہو چکے ہیں، جبکہ علاقے میں فورسز کی بھاری نفری تاحال موجود ہے۔
رپورٹس کے مطابق یہ آپریشنز دہشت گردوں کے خفیہ ٹھکانوں اور نقل و حرکت کی مصدقہ مقامی اطلاعات پر کیے گئے۔
8 قلات (شور پارود پہاڑی سلسلہ) میں دہشت گرد ہلاک
  •  قلات کا دور افتادہ اور انتہائی دشوار گزار پہاڑی سلسلہ شور پارود، جو طویل عرصے سے شرپسند عناصر کی پناہ گاہ سمجھا جاتا ہے۔
  •  مقامی ذرائع کے مطابق، سکیورٹی فورسز نے شور پارود کے پہاڑی حصوں میں دہشت گردوں کے ایک بڑے گروپ کو اس وقت گھیرے میں لیا جب وہ کسی بڑی تخریب کاری کی منصوبہ بندی کر رہے تھے۔
  •  دونوں اطراف سے کئی گھنٹوں تک جدید ہتھیاروں سے فائرنگ کا تبادلہ جاری رہا۔
  •  فورسز کی مؤثر کارروائی کے نتیجے میں اب تک 8 دہشت گردوں کے ہلاک ہونے کی تصدیق کی گئی ہے، جبکہ ان کے ٹھکانے مکمل طور پر تباہ کر دیے گئے۔
 مستونگ (علاقہ دشت) میں 3 دہشت گرد ڈھیر
  •  ضلع مستونگ کا حساس علاقہ دشت۔
  •  مستونگ کے علاقے دشت میں شرپسندوں کی موجودگی کی خفیہ اور ابتدائی اطلاعات پر سکیورٹی فورسز نے اچانک چھاپہ مارا۔
  •  مسلح تصادم کے دوران فورسز نے فوری جوابی کارروائی کرتے ہوئے 3 دہشت گردوں کو موقع پر ہی ہلاک کر دیا، جبکہ ان کی گاڑی یا ٹھکانے سے مبینہ طور پر دھماکا خیز مواد بھی قبضے میں لیا گیا ہے۔

ہتھیاروں کی برآمدگی اور کلیئرنس آپریشن
ابتدائی اطلاعات کے مطابق، ہلاک ہونے والے دہشت گردوں کے قبضے سے دیسی ساختہ بم (IEDs)، خودکار رائفلیں، اور پہاڑی علاقوں میں مواصلات کے لیے استعمال ہونے والا نیٹ ورک کا سامان برآمد ہوا ہے۔ قلات کے شور پارود اور مستونگ کے دشت میں تاحال سکیورٹی فورسز کا سرچ اور کلیئرنس آپریشن جاری ہے تاکہ اردگرد کے پہاڑوں میں چھپے دیگر ممکنہ مفرور عناصر یا ان کے سہولت کاروں کو پکڑا جا سکے۔

مقامی سطح پر امن و امان کی صورتحال
ان دونوں اضلاع میں بیک وقت ہونے والی اس بڑی کارروائی کے بعد سکیورٹی کو ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے اور آمد و رفت کے راستوں پر چیکنگ سخت کر دی گئی ہے۔ عوامی و دفاعی حلقوں نے فورسز کی اس فوری اور جرات مندانہ کارروائی کو سراہا ہے، جس سے بلوچستان میں بیرونی نیٹ ورکس اور مقامی شرپسندوں کو بڑا دھچکا پہنچا ہے۔