بلوچستان میں دہشت گردوں کے خلاف بڑی کامیابی: 'آپریشن شعبان' میں 39 سمیت مجموعی طور پر 75 دہشت گرد ہلاک

 


کوئٹہ: بلوچستان میں بدامنی پھیلانے والے عناصر کے خلاف سکیورٹی اداروں نے اب تک کی سب سے بڑی کارروائی کرتے ہوئے درجنوں دہشت گردوں کو جہنم واصل کر دیا ہے۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے جاری کردہ بیان کے مطابق، صوبے کے مختلف حصوں میں جاری انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز اور خصوصی مہم 'آپریشن شعبان' کے دوران مجموعی طور پر 75 دہشت گرد مارے جا چکے ہیں۔
فورسز کی مشترکہ کارروائیاں اور دہشت گردوں کا عبرت ناک انجام
یہ گرینڈ آپریشن مانگی ڈیم پولیس اسٹیشن پر ہونے والے دہشت گردانہ حملے کے بعد شروع کیا گیا۔ اس آپریشن کی خاص بات پاک فوج، فرنٹیر کونسٹیبلری (FC)، اور بلوچستان پولیس کی مشترکہ زمینی و فضائی کارروائیاں ہیں۔ صوبے کے دشوار گزار اور سنگلاخ پہاڑی علاقوں میں سکیورٹی فورسز کے دستوں نے اب تک 'آپریشن شعبان' کے دوران 39 دہشت گردوں کو ہلاک کیا ہے۔
وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے سکیورٹی فورسز کی کارکردگی کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ 5 جولائی سے جاری مختلف کارروائیوں میں اب تک مجموعی طور پر 75 دہشت گرد انجام کو پہنچ چکے ہیں۔ اس کے علاوہ خضدار کے علاقے زیدی میں واقع پولیس اسٹیشن پر دہشت گردوں کا بزدلانہ حملہ بھی سکیورٹی فورسز نے بہادری سے ناکام بنا دیا ہے۔
وزیر اعلیٰ میر سرفراز بگٹی نے اپنے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان کی دھرتی پر خون بہانے والے کسی رعایت کے مستحق نہیں ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ بلوچستان میں ریاست کی رٹ ہر قیمت پر برقرار رکھی جائے گی اور دہشت گرد اپنے انجام سے کسی صورت نہیں بچ سکتے۔ اس وقت بھی بلوچستان کے مختلف علاقوں میں کلیئرنس آپریشنز پوری قوت سے جاری ہیں۔