کوئٹہ (ویب ڈیسک): کوئٹہ کے معروف تاجر اور مشہور زمانہ 'کابل جان ریسٹورنٹ' کے مالک محمد ہاشم نورزئی کے ہائی پروفائل قتل کیس میں پولیس نے بڑی کامیابی حاصل کرتے ہوئے 3 مرکزی ملزمان کو گرفتار کر لیا ہے۔
یاد رہے کہ یہ افسوسناک واقعہ کچلاک بائی پاس (تھانہ ایئرپورٹ کی حدود) میں پیش آیا تھا، جہاں نامعلوم مسلح افراد نے محمد ہاشم نورزئی کی گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کی تھی، جس کے نتیجے میں وہ موقع پر ہی جاں بحق ہو گئے تھے۔ اس قتل کے خلاف تاجر برادری اور لواحقین نے بلیلی کسٹم پر لاش رکھ کر شدید احتجاج کیا اور قومی شاہراہ بلاک کر دی تھی، جس پر حکام نے سخت نوٹس لیا تھا۔
پولیس حکام کے مطابق، گرفتار ملزمان نے اعترافِ جرم کرتے ہوئے بتایا کہ انہوں نے خود پر سے شک ہٹانے کے لیے انتہائی شاطرانہ چال چلی۔ ملزمان محمد ہاشم نورزئی کو قتل کرنے کے بعد نہ صرف ان کے گھر فاتحہ خوانی اور تعزیتی رسومات میں پیش پیش رہے، بلکہ قاتلوں کی گرفتاری کے لیے مقتول کے لواحقین کی جانب سے دیے جانے والے احتجاجی دھرنے میں بھی باقاعدہ شامل رہے تاکہ پولیس اور خاندان والوں کو ان پر رتی برابر بھی شک نہ ہو۔
سکیورٹی حکام نے سائنسی اور تکنیکی بنیادوں پر تفتیش کا آغاز کیا۔ جیو فینسنگ، سی سی ٹی وی فوٹیجز اور موبائل ڈیٹا کی اسکریننگ کے دوران جب ان ملزمان کی لوکیشن جائے وقوعہ اور مقتول کی نقل و حرکت سے میچ ہوئی، تو پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے تینوں کو دھر دبوچا۔ ملزمان کے اعترافی بیان کے مطابق، اس قتل کے پیچھے کوئی دہشتگردی نہیں تھی، بلکہ یہ واردات خالصتاً کاروباری حسد اور کابل جان ریسٹورنٹ کی غیر معمولی کامیابی کے تنازع پر انجام دی گئی تھی۔ پولیس نے ملزمان کو مزید قانونی کارروائی کے لیے ریمانڈ پر لے لیا ہے۔

Social Plugin