بلوچستان میں مسافروں اور عام شہریوں کی سیکیورٹی سے متعلق ایک بار پھر تشویشناک صورتحال سامنے آئی ہے۔ ذرائع کے مطابق، بسیمہ اور سوراب کے درمیان گدر جوری کراس کے قریب کلغلی کے علاقے میں کوئٹہ سے پنجگور، تربت اور گوادر جانے والی مسافر بسوں پر مسلح افراد کی جانب سے فائرنگ کی گئی۔ اس واقعے میں خوش قسمتی سے کسی جانی نقصان کی سرکاری تصدیق نہیں ہوئی، تاہم فائرنگ کی زد میں آنے سے گاڑیوں کو نقصان پہنچا، شیشے ٹوٹ گئے اور ٹائر پھٹ گئے، جبکہ ایک خاتون سمیت چند مسافروں کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔ سیکیورٹی خدشات کے پیشِ نظر متاثرہ بسوں کو گدر اور بسیمہ کے مقامات پر روک دیا گیا، جس کی وجہ سے خواتین، بچوں، طالب علموں اور مزدوروں سمیت سینکڑوں مسافروں کو سفری مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
اس واقعے کے محرکات اور پسِ پردہ عناصر کے حوالے سے اب تک مختلف اطلاعات سامنے آ رہی ہیں۔ مقامی ذرائع اور غیر سرکاری رپورٹس میں خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ یہ کارروائی علاقے میں سرگرم مسلح گروہوں کی ہو سکتی ہے جو ماضی میں بھی شاہراہوں پر سیکیورٹی کے مسائل پیدا کرتے رہے ہیں۔ سرکاری اور سیکیورٹی اداروں کی جانب سے اب تک حملہ آوروں کی حتمی شناخت یا محرک کے بارے میں کوئی حتمی بیان جاری نہیں کیا گیا ہے اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے واقعے کی باقاعدہ تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔
یہ واقعہ بلوچستان کی اہم سفری اور تجارتی شاہراہوں پر امن و امان کی صورتحال اور مسافروں کے تحفظ پر سنجیدہ سوالات اٹھاتا ہے، جہاں روزمرہ کی زندگی، تعلیم اور علاج کے لیے سفر کرنے والے عام شہریوں کو سفری خطرات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اس مخدوش صورتحال کے اثرات صوبے کی ٹرانسپورٹ انڈسٹری اور معاشی سرگرمیوں پر بھی مرتب ہو رہے ہیں۔ مقامی حلقوں اور شہریوں کی جانب سے یہ مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ متعلقہ سیکیورٹی ادارے اس واقعے کی شفاف تحقیقات مکمل کریں، ذمہ دار عناصر کو قانون کے دائرے میں لائیں اور شاہراہوں پر مؤثر پیٹرولنگ اور حفاظتی اقدامات کو یقینی بنائیں تاکہ معصوم مسافروں کے جان و مال کا تحفظ ہر صورت ممکن بنایا جا سکے۔

Social Plugin