پاکستان میں طویل عرصے سے مقیم غیرقانونی افغان شہریوں کے لیے حکومت کی جانب سے دی گئی حتمی مہلت اب باضابطہ طور پر ختم ہو چکی ہے، جس کے ساتھ ہی ملک بھر میں قانون نافذ کرنے والے اداروں نے ایک جامع اور سخت ترین آپریشن کا آغاز کر دیا ہے۔ وزارت داخلہ کے واضح احکامات کے بعد اب پاکستان کے کسی بھی حصے میں بغیر ویزے، پاسپورٹ یا قانونی سفری دستاویزات کے رہنے والے ہر افغان شہری کو فوری طور پر گرفتار کیا جائے گا۔ اس بار حکومتی پالیسی انتہائی سخت ہے اور انتظامیہ نے واضح کیا ہے کہ اب کسی بھی غیرقانونی تارک وطن کو ملک میں مزید رہنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، بلکہ گرفتار کر کے سیدھا ان کے وطن واپس بھیجا جائے گا۔
اس بڑے کریک ڈاؤن کا دائرہ کار صرف غیرقانونی مقیم افراد تک ہی محدود نہیں ہے، بلکہ ان کی پشت پناہی کرنے والے مقامی سہولت کاروں کو بھی قانون کے کٹہرے میں لایا جا رہا ہے۔ حکومت نے صاف الفاظ میں انتباہ جاری کیا ہے کہ جو کوئی بھی پاکستانی شہری ان غیرقانونی افغان باشندوں کو اپنے ہاں پناہ دے گا، انہیں قانون سے چھپانے کی کوشش کرے گا، یا بغیر تصدیق کے اپنے مکان اور دکانیں کرائے پر دے گا، اس کے خلاف بھی سنگین قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ اس اقدام کا مقصد ملک کے داخلی امن و امان کو بہتر بنانا، جرائم کی روک تھام اور ملکی معیشت پر پڑنے والے اضافی بوجھ کو کم کرنا ہے، جس کے لیے تمام صوبوں میں سیکیورٹی فورسز کو ہائی الرٹ کر کے سرچ آپریشنز شروع کر دیے گئے ہیں۔

Social Plugin