بلوچستان میں بڑا انتظامی ردوبدل: کوئٹہ، قلات، لسبیلہ، خضدار سمیت پورے صوبے کا نقشہ بدل گیا، حکومت کا باضابطہ نوٹیفکیشن جاری!



حکومتِ بلوچستان نے صوبے بھر میں انتظامی امور کو مزید فعال اور مؤثر بنانے کے لیے ایک تاریخی اور انتہائی بڑا قدم اٹھاتے ہوئے پورے انتظامی ڈھانچے کی ازسرنو تشکیل کا باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے۔ بلوچستان لینڈ ریونیو ایکٹ 1967 کے تحت کیے گئے ان انقلابی اقدامات کے بعد صوبے کا پورا سیاسی و انتظامی نقشہ تبدیل ہو گیا ہے، جس کے تحت متعدد نئے اضلاع، ڈویژنز، سب ڈویژنز اور تحصیلیں قائم کرنے کے ساتھ ساتھ کئی اہم علاقوں کی حدود بھی بدل دی گئی ہیں۔
اس نئے فیصلے کی سب سے بڑی اور حیران کن تبدیلی صوبائی دارالحکومت کوئٹہ میں دیکھنے کو ملی ہے، جہاں اب شہر کو ریلوے ٹریک کی بنیاد پر دو حصوں یعنی "کوئٹہ ایسٹ" اور "کوئٹہ ویسٹ" کے نام سے دو الگ اضلاع میں تقسیم کر دیا گیا ہے، جبکہ مستونگ کو بھی اب باقاعدہ طور پر کوئٹہ ڈویژن کا حصہ بنا دیا گیا ہے۔ دوسری جانب قلات ڈویژن کے حوالے سے بھی بڑا فیصلہ سامنے آیا ہے، جسے اب خضدار اور لسبیلہ ڈویژنز میں تقسیم کر کے دو الگ الگ انتظامی بلاکس بنا دیے گئے ہیں۔
نوٹیفکیشن کے مطابق صوبے کے عوام کی سہولت کے لیے وادھ، بارشور، نارتھ ڈیرہ بگٹی اور ساؤتھ ڈیرہ بگٹی سمیت کئی نئے انتظامی یونٹس اور اضلاع قائم کیے گئے ہیں، جبکہ مختلف اضلاع کے ہیڈکوارٹرز، پٹوار سرکلز اور ناموں میں بھی اہم تبدیلیاں کی گئی ہیں۔ اس کے علاوہ متعدد پرانی سب تحصیلوں کو اپ گریڈ کر کے مکمل تحصیل کا درجہ دے دیا گیا ہے اور اس پورے نظام کو فوری طور پر زمین پر لاگو کرنے کے لیے بورڈ آف ریونیو کو سخت ہدایات جاری کی گئی ہیں کہ وہ ایک ماہ کے اندر اندر تمام علاقائی حدود کا حتمی جائزہ لے کر تمام ضروری ایڈجسٹمنٹس کو مکمل کرے۔