شہید صرف ایک خاندان کا نہیں ہوتا، وہ پوری قوم کی امانت ہوتا ہے۔ اسلام ہمیں سکھاتا ہے کہ شہداء کا احترام کیا جائے، ان کے درجات کی بلندی کی دعا کی جائے، صبر اختیار کیا جائے اور انصاف کا مطالبہ کیا جائے۔ قرآن کریم فرماتا ہے: "اور جو لوگ اللہ کی راہ میں قتل کیے جائیں انہیں مردہ نہ کہو، بلکہ وہ زندہ ہیں، لیکن تم شعور نہیں رکھتے۔" (سورۃ البقرہ: 154)۔ یہی وجہ ہے کہ شہید کی میت کو سیاسی نعروں، وقتی مفادات اور ذاتی ایجنڈوں کا ذریعہ بنانا نہ اخلاقی طور پر درست ہے، نہ قومی طور پر، اور نہ ہی دینی اعتبار سے۔
زیارت کے افسوسناک واقعے میں شہید ہونے والے پولیس اہلکار ہمارے اپنے تھے۔ ان کے لیے دل بھی دکھتا ہے، آنکھ بھی نم ہوتی ہے اور دعا بھی نکلتی ہے۔ لیکن ایک سوال ضرور اٹھتا ہے کہ کیا شہداء کے خون کا سب سے بڑا حق یہی ہے کہ ان کی لاشوں کو سڑکوں پر رکھ کر سیاسی تماشہ بنایا جائے؟ کیا دشمن کی گولی سے شہید ہونے والوں کے جنازوں کو اپنے سیاسی قد بڑھانے کے لیے استعمال کرنا وفاداری ہے یا شہداء کی بے حرمتی؟
یہ کہنا آسان ہے کہ کمک کیوں نہیں پہنچی، لیکن میدانِ جنگ ٹی وی اسکرین یا سوشل میڈیا کی بحث نہیں ہوتا۔ جو لوگ کبھی بارود کی بو کے قریب نہیں گئے، وہ نقشے پر انگلی رکھ کر جنگیں جیتنے کی باتیں کرتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ دہشت گرد حملے سے پہلے راستے کاٹتے ہیں، بارودی سرنگیں بچھاتے ہیں، گھات لگاتے ہیں اور کمک کا راستہ روکنے کی ہر ممکن کوشش کرتے ہیں۔ فضائی مدد بھی تب مؤثر ہوتی ہے جب زمین سے درست معلومات مل رہی ہوں۔ جنگ جذبات سے نہیں، حالات، حکمتِ عملی اور لمحہ بہ لمحہ فیصلوں سے لڑی جاتی ہے۔
پاکستان کی سرزمین پر ہزاروں ایف سی اہلکار، پولیس، لیویز، فوجی جوان اور بے گناہ شہری دہشت گردی کا نشانہ بن چکے ہیں۔ کیا ہر شہادت کے بعد ریاست ہی قاتل قرار دے دی جائے؟ اگر نہیں، تو پھر آج یہ معیار کیوں بدل گیا؟ آخر اصل قاتلوں کا نام لینے سے زبانیں کیوں لڑکھڑا جاتی ہیں؟ تیر ہمیشہ اس طرف کیوں چلتا ہے جہاں سے تابوت اٹھایا جا رہا ہے، اس طرف کیوں نہیں جہاں سے گولیاں چلائی گئیں؟
ایک پرانا محاورہ ہے: "چور مچائے شور۔" آج بھی یہی منظر دکھائی دیتا ہے۔ جو عناصر برسوں دہشت گردوں کے خلاف کارروائیوں پر سوال اٹھاتے رہے، جو آپریشنوں کی مخالفت کرتے رہے، جو دہشت گردوں کو مظلوم ثابت کرنے کی کوشش کرتے رہے، وہی آج شہداء کے نام پر آنسوؤں کی سیاست کر رہے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ جب دہشت گردوں کے خلاف کارروائی ہوتی ہے تو یہی لوگ خاموش کیوں ہو جاتے ہیں؟ اس وقت نہ انسانی حقوق یاد آتے ہیں، نہ شہداء کا خون۔
اسلام ہمیں عدل کا حکم دیتا ہے۔ قرآن کہتا ہے: "اور کسی قوم کی دشمنی تمہیں اس بات پر آمادہ نہ کرے کہ انصاف نہ کرو، انصاف کرو، یہی تقویٰ کے زیادہ قریب ہے۔" (سورۃ المائدہ: 8)۔ انصاف یہی ہے کہ ذمہ داری کا تعین حقائق سے ہو، جذبات سے نہیں۔ اگر کہیں غفلت ہوئی ہے تو اس کی غیرجانبدار تحقیقات ہونی چاہئیں، لیکن اس سے بھی پہلے قاتل کا گریبان پکڑا جانا چاہیے، نہ کہ مقتول کے ادارے کو ہی کٹہرے میں کھڑا کر دیا جائے۔
یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ جو شخص وردی پہنتا ہے، وہ یہ جان کر پہنتا ہے کہ اس کا راستہ آسان نہیں۔ وہ خطرات سے کھیلنے، دشمن کا سامنا کرنے اور وطن کے دفاع کا عہد کرتا ہے۔ شہادت اس پیشے کا سب سے دردناک مگر سب سے باعزت انجام ہے۔ اس قربانی کو سیاسی نعروں کے شور میں دبانا دراصل ان کے مقام کو کم کرنا ہے۔
آج شعبان آپریشن میں ہزاروں سکیورٹی اہلکار دہشت گردوں کے خلاف برسرِ پیکار ہیں۔ ایس ایس جی، ایف سی، پولیس اور فوج کے جوان اپنی جانیں ہتھیلی پر رکھ کر لڑ رہے ہیں تاکہ بلوچستان میں امن قائم ہو۔ لیکن حیرت یہ ہے کہ دہشت گردوں کے خلاف ہونے والی کارروائیوں پر یہی سیاسی چہرے خاموش رہتے ہیں، جبکہ شہداء کے جنازے انہیں سیاست چمکانے کا موقع دکھائی دیتے ہیں۔
قوم کو فیصلہ کرنا ہوگا کہ وہ شہداء کے خون کے ساتھ کھڑی ہے یا ان لوگوں کے ساتھ جو ہر لاش میں سیاسی فائدہ تلاش کرتے ہیں۔ یاد رکھیں، لاشیں تقریروں کی سیڑھی نہیں ہوتیں، یہ قوم کی امانت ہوتی ہیں۔ جو شخص شہید کے جنازے کو سیاست کا اسٹیج بنا دے، وہ شہید کا خیرخواہ نہیں، اپنے مفاد کا سودا گر ہوتا ہے۔
آخر میں صرف اتنا کہوں گا؛ دشمن کی گولی نے ہمارے جوانوں کو شہید کیا، مگر اگر ہم نے ان کے خون کو سیاسی منڈی میں بکنے دیا تو یہ زخم دشمن سے بھی بڑا ہوگا۔ اختلاف ضرور کیجیے، سوال بھی اٹھائیے، احتساب بھی مانگیے، مگر شہداء کی حرمت کو سیاست کی نذر مت کیجیے۔ کیونکہ قومیں اپنے شہیدوں پر فخر کرتی ہیں، ان کی لاشوں پر سیاست نہیں کرتیں۔
#مسٹر_پاکستانی

Social Plugin