تحریر: مسٹر پاکستانی
قوموں کی زندگی میں ایسے موڑ بھی آتے ہیں جب خاموشی جرم بن جاتی ہے اور مصلحت، بزدلی کا دوسرا نام۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب ریاستیں اپنے دشمنوں کے سامنے تذبذب کا شکار ہو جائیں تو دشمن کے حوصلے بلند ہوتے ہیں اور اہلِ وطن کے دلوں میں اضطراب جنم لیتا ہے۔ ایسے نازک ادوار میں قلم کا فرض صرف الفاظ کی زیبائش نہیں، بلکہ حقائق کی بے لاگ ترجمانی بھی ہوتا ہے۔
بلوچستان گزشتہ کئی برسوں سے بیرونی سرپرستی میں چلنے والی دہشت گردی، تخریب کاری اور ریاست مخالف سرگرمیوں کی زد میں ہے۔ اس سرزمین کے معصوم شہری، مزدور، اساتذہ، طلبہ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار مسلسل نشانہ بنتے رہے ہیں۔ جب معصوم پاکستانیوں کا خون مٹی میں جذب ہوتا ہے، جب ریلوے لائنیں بارود سے اڑا دی جاتی ہیں، جب ترقیاتی منصوبوں کو دشمن کی آنکھ کا کانٹا بنا دیا جاتا ہے، تو دکھ صرف اس خونریزی کا نہیں ہوتا بلکہ اس طرزِ فکر کا بھی ہوتا ہے جو ہر سانحے کے بعد ریاست ہی کو کٹہرے میں کھڑا کرنے لگتا ہے۔
المیہ یہ ہے کہ ہمارے ہاں ایک ایسا طبقہ بھی موجود ہے جو ہر مرتبہ دہشت گردی کے اصل کرداروں سے زیادہ ریاستی ردِعمل پر نوحہ کناں دکھائی دیتا ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے قاتل کی تلوار سے زیادہ انہیں اس ہاتھ پر اعتراض ہو جو اس تلوار کو روکنے کے لیے اٹھتا ہے۔
حضرت علیؓ کا قول ہے، ظالم کا ساتھ دینے والا بھی ظلم میں برابر کا شریک ہوتا ہے
یہی وہ نکتہ ہے جسے ہمارے بعض خود ساختہ دانشور نظرانداز کر دیتے ہیں۔ دہشت گردی کی مذمت اگر مبہم ہو اور ریاست پر تنقید فوری، تو سوال پیدا ہونا فطری ہے کہ ہمدردی آخر کس کے ساتھ ہے؟
وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے جب دہشت گردی کے خلاف سخت مؤقف اختیار کیا، قانون نافذ کرنے والے اداروں کو مکمل اختیار دیا اور ریاست مخالف نیٹ ورکس کے خلاف کارروائیوں کو تیز کیا تو ایک مخصوص حلقے میں بے چینی کی لہر دوڑ گئی۔ اچانک انسانی حقوق، اظہارِ رائے اور مفاہمت کے موضوعات پوری شدت سے زیرِ بحث آنے لگے، مگر یہی حساسیت اس وقت دکھائی نہیں دیتی جب کسی مزدور کو شناختی کارڈ دیکھ کر قتل کر دیا جاتا ہے یا کسی بے گناہ مسافر کی لاش سڑک کنارے ملتی ہے۔ یہ طرزِ عمل کم از کم سوال ضرور پیدا کرتا ہے۔
باطل سے دبنے والے اے آسماں نہیں ہم
سو بار کر چکا ہے تُو امتحاں ہمارا۔
ریاست کی اولین ذمہ داری اپنے شہریوں کے جان و مال کا تحفظ ہے۔ اگر کوئی گروہ بندوق کے زور پر آئین کو چیلنج کرے، پاکستان کی سالمیت پر حملہ آور ہو اور معصوم انسانوں کے خون سے اپنے مقاصد کی آبیاری کرے تو اس کے مقابلے میں قانون کی رٹ قائم کرنا انتقام نہیں بلکہ ریاستی فرض ہے۔
یہاں یہ حقیقت بھی فراموش نہیں کرنی چاہیے کہ ریاست کی سختی ہرگز عوام کے خلاف نہیں ہوتی، اس کا رخ صرف ان عناصر کی طرف ہوتا ہے جو بندوق کو دلیل اور خونریزی کو سیاست سمجھتے ہیں۔ امن پسند شہری، تعلیم یافتہ نوجوان اور ترقی کے خواہش مند لوگ ہمیشہ ریاست کی اولین ترجیح رہتے ہیں۔
بدقسمتی یہ ہے کہ ہمارے بعض اہلِ قلم ہر معاملے کو اس زاویے سے دیکھتے ہیں جہاں ریاست ہمیشہ ملزم اور دہشت گرد ہمیشہ ناراض فریق دکھائی دیتا ہے۔ یہ وہی طرزِ فکر ہے جس کے بارے میں فارسی کا مقولہ ہے
نرم آہنی شمشیر، جنگ نہیں جیتا کرتی۔
امن یقیناً ہر ذی شعور انسان کی خواہش ہے، مگر امن کی بنیاد انصاف اور قانون پر استوار ہوتی ہے، نہ کہ کمزوری اور مصلحت پر۔ تاریخ میں کوئی ایسی مثال مشکل سے ملتی ہے جہاں ریاست نے مسلح بغاوت کے سامنے ہتھیار ڈال کر پائیدار امن حاصل کیا ہو۔
جس دھج سے کوئی مقتل میں گیا، وہ شان سلامت رہتی ہے۔
قومیں صرف نعروں سے نہیں بلکہ واضح مؤقف، مضبوط ارادے اور قانون کی غیر متزلزل عمل داری سے زندہ رہتی ہیں۔ جہاں ریاست کی رٹ کمزور پڑ جائے، وہاں بارود بولنے لگتا ہے اور دلیل خاموش ہو جاتی ہے۔
سوال یہ نہیں کہ بلوچستان میں امن کون چاہتا ہے، سوال یہ ہے کہ امن کس قیمت پر حاصل کیا جائے؟ اگر امن کا مطلب یہ ہو کہ ریاست اپنی رٹ سے دستبردار ہو جائے، قانون کے ہاتھ باندھ دیے جائیں اور بندوق برداروں کو سیاسی رومانس کا لبادہ اوڑھا دیا جائے، تو یہ امن نہیں، شکست کا دوسرا نام ہے۔
افسوس اس امر پر ہے کہ ہمارے بعض اہلِ دانش ہر بحران کے بعد ایک ہی راگ الاپتے ہیں، لہجہ نرم کیجیے، دروازے کھلے رکھیے، ناراض لوگوں کو منائیے۔ بلاشبہ مکالمہ ہر مہذب معاشرے کی ضرورت ہے، مگر مکالمہ اُن سے ہوتا ہے جو دلیل کی زبان سمجھتے ہوں، نہ کہ اُن سے جن کے ہاتھ بارود سے رنگے ہوں اور جنہوں نے آئین کے بجائے بندوق کو اپنا منشور بنا لیا ہو۔
تاریخ کا مطالعہ بتاتا ہے کہ ریاستیں رحم دلی سے ضرور چلتی ہیں، مگر کمزوری سے کبھی نہیں۔ نرم خوئی حکمران کا زیور ہے، لیکن قانون کی عمل داری اس کی ذمہ داری۔ جب یہ ذمہ داری مصلحت کی نذر ہو جائے تو پھر شہر اجڑتے ہیں، بستیاں ویران ہوتی ہیں اور قومیں اپنی ہی غفلت کا ماتم کرتی رہ جاتی ہیں۔
آئینِ جواں مرداں، حق گوئی و بے باکی
اللہ کے شیروں کو آتی نہیں روباہی۔
یہ شعر محض شاعری نہیں، ایک قومی منشور ہے۔ قومیں وہاں مضبوط ہوتی ہیں جہاں حق کو حق اور باطل کو باطل کہنے کا حوصلہ زندہ رہے۔
بدقسمتی سے ہمارے بعض حلقوں نے ایک عجیب پیمانہ اختیار کر لیا ہے۔ جب دہشت گرد معصوم شہریوں کو نشانہ بنائیں، ترقیاتی منصوبے تباہ کریں یا ریاستی اداروں پر حملہ آور ہوں تو الفاظ احتیاط سے تولے جاتے ہیں، لیکن جب ریاست قانون کے مطابق کارروائی کرے تو تنقید کے تیر یکایک تیز ہو جاتے ہیں۔ اس دوہرے معیار کو علمی دیانت نہیں کہا جا سکتا۔
سرفراز بگٹی کی پالیسی سے اختلاف ہر شہری کا حق ہے، لیکن اختلاف اور انکارِ ریاست میں واضح فرق موجود ہے۔ جمہوریت اختلافِ رائے کی اجازت دیتی ہے، مگر بندوق کے سائے میں آئین کو چیلنج کرنے کی نہیں۔
یہ حقیقت بھی فراموش نہیں ہونی چاہیے کہ بلوچستان صرف بارود کی سرزمین نہیں، بلکہ امکانات کی سرزمین ہے۔ وہاں کے نوجوان تعلیم، روزگار، سرمایہ کاری اور ترقی کے خواہاں ہیں۔ جو عناصر انہیں کتاب سے دور اور بندوق کے قریب لے جانا چاہتے ہیں، وہ درحقیقت بلوچستان کے بھی خیرخواہ نہیں۔
سنا ہے وہ بولے تو باتوں سے پھول جھڑتے ہیں
یہ بات ہے تو چلو بات کر کے دیکھتے ہیں۔
لیکن جہاں جواب میں پھول نہیں، گولیاں برسائی جائیں، وہاں ریاست پر لازم ہو جاتا ہے کہ وہ اپنے شہریوں کی حفاظت کرے۔ امن کی خواہش اپنی جگہ مسلم، مگر امن کی حفاظت کے لیے قانون کی قوت ناگزیر ہے۔
جو لوگ ہر سخت اقدام کو ظلم اور ہر ریاستی کارروائی کو جبر قرار دیتے ہیں، انہیں یہ بھی بتانا چاہیے کہ آخر قانون کی عمل داری کہاں سے شروع ہوگی؟ اگر ریاست اپنے شہریوں کے قاتلوں کے سامنے بھی مصلحت کا لبادہ اوڑھ لے تو پھر انصاف کا دروازہ کس کے لیے کھلا رہے گا؟
حقیقت یہی ہے کہ قومیں صرف نیک تمناؤں سے محفوظ نہیں رہتیں، انہیں مضبوط اداروں، واضح قومی بیانیے اور غیر متزلزل قانون کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔ مصلحت اگر اصولوں پر غالب آ جائے تو تاریخ کے اوراق گواہ ہیں کہ پھر سلطنتیں بھی ریت کی دیوار ثابت ہوتی ہیں۔
قوموں کی تاریخ اس حقیقت کی گواہ ہے کہ جب فیصلہ کن لمحات میں قیادت تذبذب کا شکار ہو جائے اور اہلِ قلم مصلحت کی دبی چادر اوڑھ لیں تو دشمن کے حوصلے بڑھ جاتے ہیں۔ ریاستیں صرف جغرافیے سے نہیں بلکہ اپنے اصولوں، قانون کی بالادستی اور قومی وحدت سے قائم رہتی ہیں۔ اگر ان ستونوں میں دراڑ پڑ جائے تو سرحدوں کی حفاظت بھی دشوار ہو جاتی ہے۔
یہ امر بھی پیشِ نظر رہنا چاہیے کہ بلوچستان کا مسئلہ محض امن و امان کا نہیں بلکہ ترقی، تعلیم، روزگار اور سیاسی شمولیت کا بھی ہے۔ جو نوجوان قلم اٹھانا چاہتے ہیں، انہیں کتاب، یونیورسٹی، ہنر اور روزگار فراہم کرنا ریاست کی ذمہ داری ہے۔ لیکن جو عناصر بندوق کو اپنی سیاست اور خونریزی کو اپنی حکمتِ عملی بناتے ہیں، ان کے بارے میں قانون کا راستہ ہی اختیار کیا جاتا ہے۔ ریاست کی نرمی عوام کے لیے ہوتی ہے، قانون شکنی کے لیے نہیں۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ صرف میدان میں نہیں لڑی جاتی، بلکہ بیانیے کی سطح پر بھی لڑی جاتی ہے۔ جب الفاظ حقیقت کا ساتھ چھوڑ دیں تو جھوٹ بھی دلیل کا لبادہ اوڑھ لیتا ہے۔ اسی لیے اہلِ قلم کی ذمہ داری ہے کہ وہ اختلافِ رائے کا حق محفوظ رکھتے ہوئے بھی تشدد، قتل اور آئین شکنی کو کسی صورت جواز نہ دیں۔
نثار میں تری گلیوں پہ اے وطن کہ جہاں
چلی ہے رسم کہ کوئی نہ سر اُٹھا کے چلے۔
یہ شعر ظلم کی نفی اور وطن سے محبت کا استعارہ ہے۔ ہر باشعور معاشرے کی ذمہ داری ہے کہ وہ ایسا ماحول قائم کرے جہاں شہری بلاخوف زندگی گزار سکیں اور اختلاف کا اظہار بھی قانون اور آئین کے دائرے میں ہو۔
اختلاف جمہوریت کا حسن ہے، لیکن تشدد جمہوریت کی نفی۔ تنقید اہلِ فکر کا حق ہے، مگر قومی سلامتی اور انسانی جانوں کے تحفظ جیسے معاملات میں ذمہ دارانہ زبان اور مضبوط استدلال ہی اہلِ قلم کا اصل وقار ہوتا ہے۔
آخر میں صرف اتنا کہنا کافی ہے کہ مصلحت اگر انصاف پر غالب آ جائے تو تاریخ رحم نہیں کرتی۔ قومیں ان لوگوں کو یاد رکھتی ہیں جنہوں نے مشکل وقت میں سچ کہا، قانون کا ساتھ دیا اور قومی وحدت کو مقدم رکھا۔ وقت ہمیشہ گزر جاتا ہے، مگر قلم کی لکھی ہوئی سطریں تاریخ کا حصہ بن جاتی ہیں۔
افراد کے ہاتھوں میں ہے اقوام کی تقدیر
ہر فرد ہے ملت کے مقدر کا ستارہ
آج بھی انتخاب ہمارے ہاتھ میں ہے، ہم مصلحت کی چادر اوڑھ کر حقائق سے نظریں چرا سکتے ہیں، یا قانون، انصاف اور قومی وحدت کو اپنی اجتماعی قوت بنا سکتے ہیں۔ تاریخ ہمیشہ انہی قوموں کو عزت دیتی ہے جو آزمائش کے وقت اصولوں پر ڈٹ کر کھڑی رہتی ہیں۔
یاد رہے امن کا درخت اسی زمین پر پروان چڑھتا ہے جہاں قانون کی جڑیں مضبوط کی جائیں۔

Social Plugin