عوامی جیبوں پر ایک اور بوجھ ڈالتے ہوئے ملک بھر میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ایک بار پھر بڑا اضافہ کر دیا گیا ہے۔ نئے نرخوں کا فوری اطلاق کر دیا گیا ہے جس کے بعد پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمتیں نئی بلندیوں کو چھو رہی ہیں۔
حالیہ ردوبدل کے بعد پیٹرول کی فی لیٹر قیمت میں 4 روپے 93 پیسے جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 7 روپے 15 پیسے کا اضافہ ہوا ہے۔ اس اضافے کے بعد اب پیٹرول کی نئی قیمت 320 روپے 73 پیسے جبکہ ڈیزل کی نئی قیمت 367 روپے 21 پیسے مقرر ہو چکی ہے۔
اس بار نرخوں میں اضافے کی سب سے بڑی وجہ قیمتوں کے تعین کا وہ نیا ڈی ریگولیٹڈ نظام ہے جس کے تحت اب پندرہ روزہ یا ہفتہ وار جائزوں کو یکسر ختم کر دیا گیا ہے۔ اب مقامی مارکیٹ میں ایندھن کے نرخ روزانہ کی بنیاد پر طے کیے جائیں گے۔ اس نئے طریقہ کار کا مقصد عالمی مارکیٹ میں خام تیل کے سات دنوں کے اوسط اتار چڑھاؤ کا اثر فوری طور پر مقامی صارفین تک منتقل کرنا ہے۔ چونکہ عالمی سطح پر سپلائی چین متاثر ہونے اور سمندری تجارتی راستوں پر کشیدگی کی وجہ سے خام تیل کی قیمتیں مسلسل بڑھ رہی ہیں، اسی لیے مقامی سطح پر بھی قیمتوں کا گراف تیزی سے اوپر جا رہا ہے۔
پیٹرول سے زیادہ ڈیزل کی قیمت میں 7 روپے سے زائد کا یہ بڑا اضافہ معیشت پر گہرے اثرات مرتب کرے گا۔ ہائی اسپیڈ ڈیزل کا سب سے بڑا استعمال مال بردار گاڑیوں، پبلک ٹرانسپورٹ، زراعت اور صنعتی پاور جنریٹروں میں ہوتا ہے۔ ڈیزل مہنگا ہونے کا براہِ راست مطلب یہ ہے کہ آنے والے دنوں میں شہروں کے بیچ مال برداری کے کرائے بڑھیں گے، جس کے نتیجے میں روزمرہ استعمال کی اشیاء اور کھانے پینے کی چیزیں مزید مہنگی ہو جائیں گی اور عام صارفین کو اب مہنگائی کی ایک نئی لہر کا سامنا کرنا ہوگا۔

Social Plugin