سکیورٹی فورسز سے مقابلہ کرنے کے قابل نہ ہونے کے باعث دہشتگرد عام شہریوں کو نشانہ بنانے لگے، اہلِ علاقہ انصاف کا مطالبہ
بلوچستان کے ضلع نوشکی میں فتنہ الہندوستان سے وابستہ دہشتگردوں نے ایک واضح قتلِ واردات میں 3 بے گناہ بلوچ شہریوں کو شہید کر دیا۔ مقامی رہنماؤں اور عینی شاہدین نے بتایا ہے کہ حملہ آوروں نے جان بوجھ کر شہریوں کو نشانہ بنایا — واقعہ کسی مسلح مقابلے یا اچانک اندھادھند فائرنگ کا معاملہ نہیں بلکہ سیدھی اور منصوبہ بندی شدہ قتلِ واردات تھی۔
حادثے کے بعد علاقے میں گہرے صدمے اور غم کا سماں ہے۔ لواحقین اور مقامی رہنما فوری انصاف کا مطالبہ کر رہے ہیں جبکہ سکیورٹی فورسز نے جائے وقوعہ کو محاصرہ کر کے شواہد اکٹھے کرنا شروع کر دیے ہیں۔ فورسز کا کہنا ہے کہ حملہ آوروں کے خلاف تفتیش جاری ہے اور قاتلوں کو جلد گرفت میں لاکر کیفرِ کردار تک پہنچایا جائے گا۔
مقامی آبادی نے اس طرزِ عمل کو شدید الفاظ میں مذمّت کیا اور کہا کہ فتنہ الہندوستان جیسے عناصر اپنی ناکامی اور بے بسی چھپانے کے لیے معصوم شہریوں کا خون بہا رہے ہیں۔ رہائشیوں نے تحفظ یقینی بنانے اور دوبارہ ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے سکیورٹی اضافہ کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
ترجمانِ سکیورٹی اداروں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ریاست اور سکیورٹی فورسز دہشتگردی کے خاتمے کے عزم پر قائم ہیں اور عام شہریوں کے قاتلوں کو پکڑ کر سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔ اس موقع پر مقامی انتظامیہ نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ فورسز کے تعاون اور مطلوبہ معلومات فراہم کریں تاکہ ذمہ دار عناصر کی جلد شناخت ممکن ہو سکے۔
ہم شہداء کے لواحقین کے غم میں برابر کے شریک ہیں اور ان کے لیے صبرِ جمیل کی دعا کرتے ہیں۔ بلوچ عوام اور سکیورٹی ادارے مل کر ان دہشتگرد عناصر کو جڑ سے اکھاڑ پھینکیں گے تاکہ خطہ جلد از جلد امن و امان کی بحالی کی راہ پر گامزن
ہو سکے۔

Social Plugin