بلوچستان ایک ایسا خطہ ہے جس نے دہائیوں تک دہشتگردی، بدامنی اور بیرونی سرپرستی میں پنپنے والے علیحدگی پسند نیٹ ورکس کا سامنا کیا۔ یہ دہشتگرد گروہ کبھی "قوم پرستی" کا لبادہ اوڑھ کر اور کبھی "انسانی حقوق" کے نام پر اپنی سرگرمیوں کو جائز ثابت کرنے کی کوشش کرتے رہے ہیں۔ لیکن تاریخ اس بات پر مہر ثبت کرتی ہے کہ جب بھی ریاستی اداروں نے ان گروہوں کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کی ہے، انہوں نے اپنی عسکری ناکامی کو چھپانے اور دنیا کی ہمدردیاں سمیٹنے کے لیے جھوٹ اور پروپیگنڈے کا سہارا لیا۔
ان گروہوں کا سب سے پرانا اور آزمودہ ہتھیار یہی رہا ہے کہ سول آبادی، خواتین اور بچوں کو ڈھال بنا کر کارروائی کے نتائج کو مسخ کیا جائے اور اپنے مراکز و نیٹ ورکس کے خاتمے کو چھپایا جائے۔
ماضی کے نمایاں آپریشنز اور دہشتگرد بیانیہ
ڈیرہ بگٹی آپریشن (2006)
ڈیرہ بگٹی میں دہشتگردوں نے ریاستی تنصیبات اور گیس پائپ لائنوں کو نشانہ بنا کر ملکی معیشت کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی۔ جب ریاست نے سخت کارروائی کی اور درجنوں ٹھکانے تباہ ہوئے تو دہشتگرد تنظیموں نے یہ پروپیگنڈہ شروع کیا کہ "عام لوگ نشانہ بنے"۔ بعد ازاں آزاد ذرائع اور مقامی عینی شاہدین کی رپورٹس سے یہ بات ثابت ہوئی کہ کارروائی دہشتگرد مراکز تک محدود تھی۔
آواران اور کیچ (2013–2014)
بلوچ لبریشن فرنٹ (BLF) اور اتحادی گروہوں نے آواران اور کیچ کے علاقوں میں عوامی اجتماعات پر حملے کیے اور فورسز پر گھات لگا کر کارروائیاں کیں۔ لیکن جب ریاست نے جوابی کارروائی کی تو یہ گروہ "انسانی حقوق کی پامالی" کا بیانیہ لے کر سامنے آئے۔ یہاں تک کہ بعض مواقع پر انہوں نے خود کے نصب کردہ بارودی سرنگ دھماکوں کا الزام بھی فورسز پر ڈالنے کی کوشش کی۔
خضدار آپریشن
خضدار دہشتگردی کا ایک بڑا گڑھ سمجھا جاتا رہا ہے۔ جب فورسز نے یہاں کارروائی کر کے دہشتگردوں کے کئی نیٹ ورکس ختم کیے تو ایک بار پھر یہ شور مچایا گیا کہ "سول آبادی متاثر ہوئی ہے"۔ مگر وقت نے یہ ثابت کیا کہ ہدف صرف عسکری عناصر اور ان کے مسلح ٹھکانے تھے۔
کوہلو آپریشن
کوہلو میں جب ریاست نے دہشتگردوں کے زیرِ استعمال غاروں اور محفوظ ٹھکانوں کو نشانہ بنایا تو دہشتگردوں نے عالمی میڈیا کے سامنے مظلومیت کا ڈھونگ رچایا۔ حقیقت مگر یہ تھی کہ کارروائی صرف ان مراکز کے خلاف تھی جہاں سے مسلح منصوبہ بندی اور تخریب کاری کی جاتی تھی۔
بولان آپریشن
بولان کے پہاڑی سلسلے میں دہشتگردوں کے خلاف کی جانے والی کارروائی بھی اسی تسلسل کی ایک مثال ہے۔ دہشتگردوں کو بھاری جانی نقصان ہوا اور کئی مراکز تباہ ہوئے۔ اس کے فوراً بعد پروپیگنڈا کیا گیا کہ شہری متاثر ہوئے، لیکن زمینی حقائق اور سیکیورٹی رپورٹس نے ان دعوؤں کو جھوٹ ثابت کیا۔
حالیہ دنوں میں زہری کے پہاڑی سلسلوں میں دہشتگردوں کے خلاف بڑے پیمانے پر کارروائی کی جا رہی ہے۔ چند ماہ قبل انہی گروہوں نے فخر سے دعویٰ کیا تھا کہ زہری ان کے "کامل کنٹرول" میں ہے۔ لیکن جب ریاست نے آپریشن شروع کیا اور ان کے نیٹ ورکس کو نشانہ بنایا تو ایک بار پھر پرانا پروپیگنڈہ شروع ہوگیا: سول آبادی، خواتین اور بچوں کو نقصان پہنچنے کا جھوٹا بیانیہ۔
یہ بیانیہ حقیقت سے دور اور صرف اس لیے گھڑا گیا ہے تاکہ اپنی عسکری شکست کو چھپایا جا سکے، بیرونی ہمدردیاں حاصل کی جائیں، اور عوام کے ذہنوں میں انتشار پیدا کیا جائے۔
دہشتگردوں کے پروپیگنڈے کا مقصد
1. ناکامی کو چھپانا: اپنی ہلاکتوں اور تباہ شدہ مراکز کو عوامی نقصان کے بیانیے سے ڈھانپنا۔
2. عوام کو گمراہ کرنا: جھوٹے بیانیے کے ذریعے عوامی ہمدردیاں حاصل کرنے کی کوشش۔
3. بین الاقوامی دباؤ پیدا کرنا: عالمی اداروں کو گمراہ کر کے ریاستی اقدامات پر سوال اٹھوانا۔
4. عوامی اتحاد توڑنا: عوام اور ریاست کے درمیان بداعتمادی پیدا کر کے انتشار کو ہوا دینا۔
بلوچستان کے عوام اس حقیقت کو اچھی طرح جان چکے ہیں کہ دہشتگرد جب بھی شکست کھاتے ہیں تو جھوٹے بیانیے کی آڑ لیتے ہیں۔ سول آبادی کا تحفظ ہمیشہ ریاستی اداروں کی اولین ترجیح رہی ہے، اور کارروائیاں صرف دہشتگرد مراکز، مسلح نیٹ ورکس اور ان کے سہولت کاروں تک محدود رہتی ہیں۔
بلوچستان کے باشعور عوام!
امن اور ترقی کا سفر ہمارا اجتماعی خواب ہے۔ دہشتگرد اپنی ناکامی کو چھپانے کے لیے جھوٹ اور پروپیگنڈے کا سہارا لیتے ہیں، لیکن سچائی یہ ہے کہ امن کی ضمانت صرف ریاستی اقدامات میں ہے۔
آئیں ہم سب افواہوں اور جھوٹے بیانیوں سے ہوشیار رہیں، اور اپنے صوبے کے روشن مستقبل کے لیے متحد ہو کر دہشتگردوں کو مسترد کریں۔ ہمارا اتحاد ہی بلوچستان کو امن، ترقی اور خوشحالی کی راہ پر گامزن کرے گا۔

Social Plugin