دنیا کی بدلتی ہوئی سیاست اور مشرقِ وسطیٰ کے پیچیدہ حالات میں فلسطین-اسرائیل تنازع ایک ایسا مسئلہ ہے جو سات دہائیوں سے زائد عرصے سے عالمی امن کے لیے ایک بڑا چیلنج بنا ہوا ہے۔ ہر بڑی طاقت اور عالمی ادارے نے مختلف ادوار میں اس مسئلے کا حل نکالنے کی کوشش کی، لیکن آج بھی فلسطینی عوام بنیادی حقوق سے محروم ہیں۔ ایسے میں پاکستان کا مؤقف ہمیشہ سے اصولی اور غیر متزلزل رہا ہے۔ پاکستان صاف الفاظ میں کہہ چکا ہے کہ جب تک 1967 کی سرحدوں پر ایک آزاد فلسطینی ریاست قائم نہیں ہوتی اور مشرقی یروشلم اس کا دارالحکومت نہیں بنتا، تب تک اسرائیل کو تسلیم کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔
1967 کی سرحدیں اور فلسطینی ریاست کا تصور
1967 کی عرب-اسرائیل جنگ کے بعد اقوامِ متحدہ نے قرارداد 242 منظور کی تھی، جس میں اسرائیل کو ان علاقوں سے نکلنے کا کہا گیا تھا جو اس نے جنگ کے دوران قبضے میں لیے تھے، جن میں مشرقی یروشلم، مغربی کنارہ (West Bank) اور غزہ شامل تھے۔ یہی وہ سرحدیں ہیں جنہیں عالمی سطح پر ’’دو ریاستی حل‘‘ کی بنیاد سمجھا جاتا ہے۔
پاکستان کا مؤقف بھی انہی قراردادوں پر قائم ہے کہ فلسطینی ریاست کو اسی تاریخی دائرے میں بحال کیا جائے اور اس کا دارالحکومت یروشلم ہو۔ اس مؤقف کی جڑیں قائداعظم محمد علی جناح کے دور سے ملتی ہیں، جب پاکستان نے کھل کر کہا تھا کہ اسرائیل ایک ناجائز ریاست ہے اور فلسطینی عوام کے ساتھ ناانصافی کسی طور قبول نہیں کی جا سکتی۔
دوسری طرف اسرائیل کا رویہ ہمیشہ جارحانہ اور توسیع پسند رہا ہے۔ اسرائیل نے:
مشرقی یروشلم پر مکمل قبضہ جما کر وہاں یہودی آبادکاروں کی تعداد بڑھائی۔
مغربی کنارے میں نئی بستیوں کی تعمیر کے ذریعے فلسطینی علاقوں کو مزید ٹکڑوں میں تقسیم کیا۔
غزہ پر بار بار فوجی حملوں سے انسانی المیہ پیدا کیا۔
نیتن یاہو اور اس کے اتحادی واضح طور پر یہ کہہ چکے ہیں کہ وہ 1967 کی سرحدوں پر واپسی کے لیے تیار نہیں۔ ان کے مطابق جو زمین اسرائیل کے قبضے میں ہے، وہ اسرائیل کا مستقل حصہ ہے اور اگر کبھی فلسطین کو ریاست ماننا بھی پڑے تو وہ صرف ایک محدود اور بے اختیار علاقہ ہوگا، جس کا دارالحکومت یروشلم نہیں بلکہ کوئی اور چھوٹا سا شہر ہو۔
یہ حقیقت واضح کرتی ہے کہ اسرائیل کا اصل مقصد دو ریاستی حل نہیں بلکہ ’’ایک ریاستی قبضہ‘‘ ہے، جس میں فلسطینی عوام کو محض دوسرے درجے کے شہری بنا کر رکھ دیا جائے۔
پاکستان نے ہر عالمی پلیٹ فارم پر فلسطین کے حق میں آواز بلند کی ہے۔
اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی میں پاکستانی وزرائے خارجہ اور نمائندے ہمیشہ یہ مطالبہ کرتے آئے ہیں کہ 1967 کی سرحدوں پر آزاد فلسطینی ریاست قائم کی جائے۔
او آئی سی (Organization of Islamic Cooperation) کے اجلاسوں میں بھی پاکستان فلسطینی عوام کی بھرپور وکالت کرتا ہے۔
عالمی میڈیا پر بھی پاکستان کے سفارتکار اور تجزیہ کار یہی مؤقف دہراتے ہیں کہ اسرائیل کو تسلیم کرنا اُس وقت ہی ممکن ہوگا جب فلسطینی عوام کو اُن کا اصل حق ملے۔
پاکستان اور اسرائیل کی پالیسی میں بنیادی فرق
اگر دونوں ممالک کے موقف کو سامنے رکھا جائے تو فرق صاف واضح ہے:
پاکستان کا موقف: دو ریاستی حل، 1967 کی سرحدوں کے مطابق فلسطینی ریاست اور مشرقی یروشلم کو دارالحکومت تسلیم کرنا۔
اسرائیل کا موقف: 1967 کی سرحدوں پر واپسی سے انکار، مشرقی یروشلم پر مکمل قبضہ، مغربی کنارے میں یہودی بستیوں میں اضافہ اور فلسطینی ریاست کو محدود اور بے اختیار رکھنا۔
یہ بنیادی فرق اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ پاکستان کبھی بھی اسرائیل کو تسلیم کرنے کی طرف قدم نہیں بڑھا سکتا۔
موجودہ عالمی حالات کو دیکھتے ہوئے یہ کہنا مشکل نہیں کہ اگر اسرائیل اپنا رویہ نہ بدلا اور فلسطینی عوام کو اُن کے حقوق نہ دیے گئے تو مشرقِ وسطیٰ ایک تباہ کن جنگ کی طرف بڑھ سکتا ہے۔ طاقت کے زور پر فلسطینی عوام کو دبانے کی پالیسی کبھی بھی دیرپا نہیں ہو سکتی۔
پاکستان کے لیے یہ مسئلہ صرف سفارتی یا سیاسی نہیں بلکہ اخلاقی اور انسانی بنیادوں پر بھی اہم ہے۔ پاکستان کی پالیسی صرف فلسطینی عوام کے ساتھ یکجہتی نہیں بلکہ عالمی انصاف اور اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کے احترام کی بھی نمائندگی کرتی ہے۔
اسرائیل کی موجودہ پالیسی اور نیتن یاہو کی ہٹ دھرمی کو دیکھتے ہوئے یہ بات بالکل واضح ہے کہ پاکستان مستقبل قریب میں اسرائیل کو تسلیم کرنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا۔ پاکستان کا مؤقف بالکل شفاف ہے:
فلسطین کی آزادی 1967 کی سرحدوں کے مطابق ہو۔
مشرقی یروشلم فلسطین کا دارالحکومت ہو۔
جب تک یہ شرائط پوری نہیں ہوتیں، پاکستان کے لیے اسرائیل کو تسلیم کرنا ممکن ہی نہیں۔ اس مؤقف پر پاکستان ڈٹا ہوا ہے اور عالمی سطح پر بھی اسی بات کو اجاگر کرتا رہے گا۔

Social Plugin