بلوچستان میں دہشتگردی کے خاتمے کے لیے سیکیورٹی فورسز کی کوششیں مسلسل جاری ہیں۔ 29 ستمبر 2025 کو ضلع خضدار کے تحصیل زہری میں ایک بڑا آپریشن کیا گیا جس میں فتنہ الہندوستان (FAH) کے خطرناک دہشتگردوں کو نشانہ بنایا گیا۔
سیکیورٹی فورسز نے انٹیلی جنس بنیادوں پر زہری کے ایک ٹھکانے کو ٹارگٹ کیا۔ اس کارروائی کے دوران 10 دہشتگرد مارے گئے جن میں بی ایل اے کے اہم کارندے شامل تھے۔ ہلاک دہشتگردوں میں:
راشد
طلحہ عرف بشام
شاوَیز
یہ دہشتگرد اس گروہ کا حصہ تھے جو خضدار اے پی ایس اسکول بس حملے جیسے سفاک واقعے میں ملوث تھے۔ اس حملے نے نہ صرف معصوم بچوں کی زندگیاں نگلیں بلکہ پورے علاقے کو غم و غصے میں مبتلا کیا تھا۔
آپریشن کے دوران دہشتگردوں کے دیگر 15 ساتھی زخمی حالت میں فرار ہونے میں کامیاب ہوئے۔ اطلاعات کے مطابق یہ دہشتگرد قریبی پہاڑی علاقوں میں پناہ لینے کی کوشش کر رہے ہیں، تاہم فورسز ان کی تلاش میں سرگرم ہیں۔
سیکیورٹی فورسز کے ترجمان نے واضح کیا ہے کہ:
> “بلوچستان میں دہشتگردی کرنے والے عناصر کے لیے کوئی جگہ نہیں۔ ہم ہر محاذ پر چوکس ہیں اور معصوم جانوں کے تحفظ کے لیے ہر قربانی دینے کو تیار ہیں۔”
یہ آپریشن اس بات کا ثبوت ہے کہ ریاست دہشتگردوں اور ان کے سہولت کاروں کو کسی بھی صورت برداشت نہیں کرے گی۔ خاص طور پر وہ عناصر جو تعلیم دشمن کارروائیوں میں ملوث ہیں اور معصوم بچوں کو نشانہ بناتے ہیں۔
زہری آپریشن میں بی ایل اے کے اہم دہشتگردوں کی ہلاکت سے نہ صرف خضدار حملے کے مرکزی سہولت کار انجام کو پہنچے بلکہ یہ پیغام بھی واضح ہوگیا کہ پاکستان کی سیکیورٹی فورسز ہر قیمت پر امن قائم رکھنے کے لیے پرعزم ہیں۔

Social Plugin