باجوڑ میں سیکیورٹی فورسز کی بڑی کامیابی، ٹی ٹی پی کمانڈر سلیم خان عرف لالا ہلاک

 باجوڑ: خیبرپختونخوا کے ضلع باجوڑ میں سیکیورٹی فورسز نے ایک اہم کارروائی کے دوران کالعدم تنظیم کے باجوڑ چیپٹر کے خطرناک کمانڈر سلیم خان عرف لالا کو ہلاک کر دیا۔ اس آپریشن کو دہشتگردی کے خلاف جاری قومی کوششوں میں ایک بڑی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔


یہ کارروائی تحصیل ماموند کے علاقے نختار میں کی گئی، جہاں دہشتگردوں کی موجودگی کی خفیہ اطلاع پر فورسز نے سرچ اور اسٹرائیک آپریشن لانچ کیا۔ فائرنگ کے شدید تبادلے کے بعد کلعدم تنظیم کا اہم کمانڈر سلیم خان مارا گیا۔ اس کے خاتمے سے علاقے میں سرگرم دہشتگرد نیٹ ورک کو بڑا دھچکا پہنچا ہے۔


سلیم خان کا تعلق ماموند کے گاؤں نختار سے تھا۔ وہ کئی برسوں سے کالعدم تنظیم کے ساتھ وابستہ تھا اور باجوڑ میں تنظیمی ڈھانچے کو مضبوط کرنے میں مرکزی کردار ادا کر رہا تھا۔ سیکیورٹی ذرائع کے مطابق وہ نہ صرف بھتہ خوری اور ٹارگٹ کلنگ کی وارداتوں میں ملوث تھا بلکہ متعدد بار سیکیورٹی فورسز پر حملوں کی منصوبہ بندی بھی کر چکا تھا۔ اطلاعات کے مطابق وہ سرحد پار افغانستان میں بھی روپوش رہتا اور وہاں سے ہدایات لیتا تھا۔


ماہرین کا کہنا ہے کہ سلیم خان کی ہلاکت کالعدم تنظیم کے لیے ایک کاری ضرب ہے۔ باجوڑ چیپٹر کو وہ تنظیمی اور عملی طور پر فعال رکھنے والا بنیادی رہنما سمجھا جاتا تھا۔ اس کے مارے جانے کے بعد مقامی سطح پر دہشتگرد نیٹ ورک کمزور پڑے گا اور ریاستی رٹ مزید مستحکم ہوگی۔


مقامی لوگوں نے بھی اس کامیاب آپریشن پر اطمینان کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ کلعدم تنظیم کی موجودگی نے کئی برسوں تک علاقے کو عدم تحفظ اور خوف کا شکار بنا رکھا تھا۔ لوگوں کو کاروبار اور تعلیم کے شعبوں میں بھی مشکلات کا سامنا تھا۔ عوام کا ماننا ہے کہ اس طرح کی کارروائیوں سے علاقے میں پائیدار امن قائم ہوگا۔


سیکیورٹی فورسز کی جانب سے اس کامیابی کو "فتنہ الخوارج" کے لیے ایک بڑا دھچکا قرار دیا جا رہا ہے۔ سلیم خان عرف لالا کے خاتمے سے نہ صرف دہشتگردوں کے منصوبے ناکام ہوئے ہیں بلکہ یہ پیغام بھی واضح ہوا ہے کہ پاکستان کی ریاست اور عوام دہشتگردی کے خلاف متحد ہیں اور ان عناصر کے لیے اب کوئی جگہ باقی نہیں۔