مستونگ کے ڈی ایس پی رفیق حمزہ مینگل: پراسرار گمشدگی کے بعد واپسی، کئی سوالات جنم لینے لگے

 مستونگ کے ڈی ایس پی رفیق حمزہ مینگل، جو گزشتہ روز اچانک لاپتہ ہوگئے تھے، آج منظرِ عام پر آگئے ہیں۔ ان کی واپسی نے جہاں عوامی سطح پر پھیلی بے چینی کو کسی حد تک کم کیا ہے، وہیں یہ واقعہ کئی نئے سوالات بھی کھڑا کر رہا ہے۔

گزشتہ روز ڈی ایس پی رفیق حمزہ مینگل کی گمشدگی کی خبر علاقے میں تیزی سے پھیلی، جس کے بعد افواہوں اور قیاس آرائیوں کا سلسلہ شروع ہوگیا۔ مقامی آبادی اور سوشل میڈیا پر مختلف دعوے گردش کرتے رہے، جبکہ حکام کی خاموشی نے ان خدشات کو مزید ہوا دی۔

آج جب ڈی ایس پی منظر پر آئے تو پولیس اور ضلعی انتظامیہ نے اس بات کی تصدیق کی کہ وہ محفوظ ہیں۔ تاہم، ان کی گمشدگی کی اصل وجوہات یا دورانِ لاپتگی پیش آنے والے حالات کے بارے میں کوئی باضابطہ بیان سامنے نہیں آیا۔ پولیس کے ایک اعلیٰ افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ "واقعے کی تفصیلی تحقیقات جاری ہیں اور جلد حقائق سامنے لائے جائیں گے۔

مستونگ اور اطراف کے علاقے میں سیکیورٹی کی صورتحال پہلے ہی غیر یقینی کا شکار ہے، ایسے میں ایک اعلیٰ پولیس افسر کی اچانک گمشدگی نے عوامی اعتماد کو متاثر کیا۔ مقامی سماجی شخصیات کا کہنا ہے کہ اگر قانون نافذ کرنے والے افسران بھی محفوظ نہیں تو عام شہری خود کو کیسے محفوظ تصور کریں گے۔

علاقے کے بعض عوامی نمائندوں اور سیاسی رہنماؤں نے اس معاملے پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ان کا مطالبہ ہے کہ حکومت اس واقعے کی شفاف تحقیقات کرے تاکہ عوام کو اصل صورتحال سے آگاہ کیا جا سکے اور آئندہ ایسے واقعات سے بچنے کے لیے اقدامات کیے جا سکیں۔

ڈی ایس پی رفیق حمزہ مینگل کی واپسی ایک مثبت خبر ضرور ہے، مگر اس پراسرار گمشدگی کے بعد پیدا ہونے والے سوالات کا جواب دینا بھی حکام کی ذمہ داری ہے۔ عوام اب اس بات کے منتظر ہیں کہ حکومت اور پولیس واضح اور شفاف حقائق پیش کریں تاکہ افواہوں اور خدشات 

کا سلسلہ ختم ہو سکے۔