دہشت گردوں کے جرائم پر خاموشی اور وزیرِ اعلیٰ پر تنقید: سیاسی مصلحت پسندی یا بزدلی؟

 دہشت گردوں کے جرائم پر خاموشی اور وزیرِ اعلیٰ پر تنقید: سیاسی مصلحت پسندی یا بزدلی؟


بلوچستان اس وقت اپنی بقا اور امن کی ایک کٹھن جنگ لڑ رہا ہے۔ ایک طرف ریاست، سیکیورٹی ادارے اور وزیرِ اعلیٰ میر سرفراز بگٹی دہشت گردی کے عفریت کے سامنے سیسہ پلائی ہوئی دیوار بنے کھڑے ہیں، تو دوسری طرف کچھ سیاسی اور سماجی حلقوں کا ایک ایسا منافقانہ رویہ سامنے آ رہا ہے جو نہ صرف افسوسناک ہے بلکہ ملکی سالمیت کے لیے بھی خطرناک ہے۔ جب بھی دہشت گرد معصوم شہریوں کا خون بہاتے ہیں، یہ حلقے اصل قاتلوں کے خلاف زبان کھولنے کے بجائے سارا نزلہ وزیرِ اعلیٰ اور سیکیورٹی اداروں پر گرا دیتے ہیں۔ یہ رویہ اب محض تنقید نہیں رہا، بلکہ غیر محسوس طریقے سے دہشت گردوں کو "سیاسی تحفظ" فراہم کرنے کی دانستہ کوشش بن چکا ہے۔
جو حلقے دہشت گردوں کے حملوں پر چُپ سادھ لیتے ہیں اور وزیرِ اعلیٰ کو نشانہ بناتے ہیں، ان کی یہ روش کسی اصول پسندی پر نہیں بلکہ خالصتاً بزدلی پر مبنی ہے۔ وہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ دہشت گردوں کے خلاف بولنے سے ان کی اپنی جان کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے، کیونکہ دہشت گرد قانون اور اخلاقیات سے عاری ہیں۔ اس کے برعکس، جمہوری حکومت اور وزیرِ اعلیٰ پر تنقید کرنا ایک آسان اور محفوظ ترین راستہ ہے، کیونکہ ریاست تنقید کرنے والوں پر بندوقیں نہیں تانتیں۔ سیکیورٹی کے نام پر سیاست چمکانے والے یہ لوگ دراصل دہشت گردوں کے خوف کے آگے گھٹنے ٹیک چکے ہیں اور اپنی بزدلی کو سیاسی تنقید کا لبادہ اوڑھ کر پیش کرتے ہیں۔
یہ ایک زمینی حقیقت ہے کہ ریاستی سیکیورٹی ادارے اور موجودہ صوبائی حکومت عام شہریوں کے تحفظ کو ہر چیز پر مقدم رکھتی ہے۔ دہشت گرد بزدلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے بازاروں اور سڑکوں پر ناکہ بندی کرتے ہیں اور وہاں سے گزرنے والے عام معصوم شہریوں کو زبردستی روک کر انہیں انسانی ڈھال بناتے ہیں۔ ایسے حساس مواقع پر حکومت اور فورسز صرف اس لیے کارروائی روک دیتی ہیں یا پھونک پھونک کر قدم اٹھاتی ہیں تاکہ کسی بے گناہ کا خون نہ بہے۔ لیکن حیرت کی بات یہ ہے کہ یہ خود ساختہ دانشور اور مفاد پرست سیاستدان دہشت گردوں کی اس بزدلانہ اور سفاکانہ حکمتِ عملی کی مذمت کرنے کے بجائے، حکومت پر "نااہلی" کا لیبل لگا دیتے ہیں۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہ حلقے چاہتے ہیں کہ ریاست بازاروں اور سڑکوں پر موجود شہریوں کی پرواہ کیے بغیر اندھا دھند آپریشن کرے؟ اگر حکومت ذمہ داری کا مظاہرہ کرے تو قصوروار، اور اگر دہشت گرد معصوموں کو سرِعام ڈھال بنائیں تو خاموشی، یہ کھلا تضاد نہیں تو اور کیا ہے؟
مخالفین کا یہ مضحکہ خیز بیانیہ کہ وزیرِ اعلیٰ سرفراز بگٹی کے سخت موقف کی وجہ سے دہشت گردی بڑھ رہی ہے، عقل و شعور کی توہین ہے۔ دہشت گردوں کا ایجنڈہ پاکستان کی سالمیت کو نقصان پہنچانا اور بلوچستان کو الگ کرنا ہے۔ ماضی میں جب بھی ریاست نے نرمی دکھائی، عام معافی دی یا یکطرفہ مذاکرات کی کوشش کی، دہشت گردوں نے اسے کمزوری سمجھا اور مزید منظم ہو کر وار کیے۔ عسکریت پسندوں نے کبھی آئین کے دائرے میں بات کرنے کی حامی نہیں بھری۔ ایسی صورتحال میں میر سرفراز بگٹی کا "زیرو ٹالرینس" اور آہنی ہاتھوں سے نمٹنے کا موقف ہی واحد درست راستہ ہے۔ جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ دہشت گردوں کے خلاف سخت بات مت کرو تاکہ وہ حملے نہ کریں، وہ دراصل ریاست کو دہشت گردوں کے آگے سرنڈر کرنے کا مشورہ دے رہے ہیں۔
جب بھی کوئی بڑا سانحہ ہوتا ہے اور یہ مخصوص حلقے دہشت گردوں کا نام لینے سے کتراتے ہوئے سارا ملبہ وزیرِ اعلیٰ پر ڈالتے ہیں، تو وہ عالمی اور ملکی سطح پر اصل مجرموں کو عوامی غیظ و غضب سے بچا لیتے ہیں۔ یہ رویہ دہشت گردوں کی حوصلہ افزائی کرتا ہے کیونکہ انہیں معلوم ہوتا ہے کہ ان کے کیے گئے جرائم کا نزلہ بھی بالآخر حکومت پر ہی گرے گا۔ دشمن کے خلاف بولنے کے بجائے اپنی ہی قیادت کو کمزور کرنا، بیانیے کی اس جنگ میں دشمن کی بالواسطہ سہولت کاری کرنے کے مترادف ہے۔
بلوچستان کے اس کٹھن دور میں اب درمیانی راستے کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہی۔ جو لوگ دہشت گردوں کے بزدلانہ حملوں، ترقیاتی کاموں میں رکاوٹوں اور بازاروں یا سڑکوں پر مزدوروں و عام شہریوں کے قتلِ عام پر مہر بہ لب رہتے ہیں، انہیں وزیرِ اعلیٰ یا سیکیورٹی اداروں پر تنقید کرنے کا کوئی اخلاقی حق حاصل نہیں ہے۔ اگر وہ واقعی بلوچستان کا پرامن اور روشن مستقبل چاہتے ہیں، تو انہیں سرفراز بگٹی کے سخت اور واضح موقف کا شانہ بشانہ ساتھ دینا ہوگا کیونکہ چہرے بدلنے سے نہیں، بلکہ دہشت گردی کے خلاف فولادی عزم اور قومی یکجہتی سے ہی امن قائم ہوگا۔ دہشت گردوں کے خوف سے گھبرانے اور اپنی ہی حکومت کی پیٹھ میں چھرا گھونپنے والی سوچ بلوچستان کو صرف اندھیروں کی طرف دھکیل سکتی ہے، امن کی طرف نہیں۔