بلوچستان کی سرزمیں پر حقوق، آزادی اور پرامن جدوجہد کے نام پر رچایا جانے والا سالہا سال پرانا فریب اب اپنے منطقی انجام کو پہنچ رہا ہے۔ سوشل میڈیا کے بند کمروں میں بیٹھ کر ڈیجیٹل پروپیگنڈا پھیلانے والے اور اپنی مبینہ مضبوط پوزیشن کا دعویٰ کرنے والے عسکریت پسند عناصر آج جس بوکھلاہٹ کا شکار ہیں، اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ ریاستِ پاکستان نے ان کے اس نظریاتی لبادے کو تار تار کر دیا ہے جس کی آڑ میں وہ معصوم نوجوانوں کو مہرے کے طور پر استعمال کرتے تھے۔ ماضی میں بی ایس او یا بی این ایم جیسے پلیٹ فارمز کی طرح، حال ہی میں بلوچ یکجہتی کمیٹی (بی وائی سی) کے کندھوں کو استعمال کر کے عسکریت پسندوں کے لیے جو افرادی قوت، مالی فنڈنگ اور بیانیے کی نئی نرسری تیار کرنے کی کوشش کی گئی تھی، ریاست نے قانون اور سیکیورٹی گرڈ کے ذریعے اس پر کاری ضرب لگائی ہے۔ سیکیورٹی سائنس کے اصولوں کے مطابق کسی بھی عسکریت پسندی کو جڑ سے اکھاڑنے کے لیے سب سے پہلے اس کے سپلائی نیٹ ورک اور بیانیے کو توڑا جاتا ہے، جسے عسکری اصطلاح میں "Drain the Pond" (تالاب کو خشک کرنا) کہا جاتا ہے۔ ریاست نے اسی اسٹریٹجی کے تحت انسدادِ دہشت گردی کی عدالتوں کے ذریعے اس نیٹ ورک کی مرکزی قیادت کو عمر قید کی سزائیں سنا کر ان کے مالی و نظریاتی سہولت کاری کے ڈھانچے کو مفلوج کر دیا ہے، جس سے حقوق کی آڑ میں ریاست مخالف ایجنڈا چلانے والوں کی تمام خوش فہمیاں خاک میں مل چکی ہیں۔
اس نظریاتی اور افرادی سپلائی لائن کے کٹ جانے کے بعد اب پہاڑوں پر بیٹھے دہشت گردوں کے پاس افرادی قوت اور بارود کی سپلائی محدود ہو چکی ہے، اور یہی وجہ ہے کہ وہ کسی بھی بین الاقوامی اصول کے تحت اب "انسرجنسی" (Insurgency) یا گوریلا جنگ کے زمرے میں نہیں آتے۔ پولیٹیکل سائنس اور عسکری علوم کا یہ مسلمہ قاعدہ ہے کہ ایک حقیقی انسرجنسی ہمیشہ مقامی آبادی کی اخلاقی حمایت اور ہمدردی کے بل بوتے پر چلتی ہے، جبکہ بلوچستان میں سرگرم یہ تنظیمیں اب خالصتاً ایک بیرونی فنڈڈ Criminal Syndicate (منظم جرائم پیشہ مافیا) اور ڈاکو راج میں تبدیل ہو چکی ہیں۔ قومی شاہراہوں پر غریب بلوچ ڈرائیوروں کی گاڑیاں جلانا، مقامی تاجروں سے گن پوائنٹ پر زبردستی بھتہ وصول کرنا، اور دوسرے صوبوں سے آئے ہوئے بے گناہ مزدوروں و مسافروں کا خون بہانا کوئی آزادی کی تحریک نہیں بلکہ کھلی دہشت گردی اور سفاکی ہے۔ عسکری زبان میں اسے "Criminalization of Insurgency" (شورش کا مجرمانہ رخ اختیار کرنا) کہا جاتا ہے، جہاں کوئی بھی تنظیم اپنے نظریاتی مقاصد کھو کر صرف لوٹ مار پر اتر آتی ہے۔
ان کی یہ بزدلانہ کارروائیاں، جنہیں وہ سوشل میڈیا پر اپنی "مضبوط پوزیشن" بنا کر پیش کرنے کی ناکام کوشش کرتے ہیں، دراصل ان کی اسٹریٹجک کمزوری اور حواس باختگی کا کھلا اعتراف ہیں۔ جب ریاستی اداروں کے سخت دباؤ اور جارحانہ پوزیشن کے باعث سیکیورٹی فورسز کی چوکیوں پر حملہ کرنا ان کے بس میں نہیں رہا، تو انہوں نے اپنی ناکامی اور پسپائی کو چھپانے کے لیے ان معصوم شہریوں اور پبلک پراپرٹی جیسے Soft Targets (آسان اہداف) کا انتخاب کیا جن کی ہر جگہ حفاظت ممکن نہیں ہوتی۔ یہ حملے ان کی طاقت کا نہیں بلکہ ان کی نظریاتی موت اور آخری ہچکیوں کا مظہر ہیں، جن کا واحد مقصد میڈیا ہائپ (Media Hype) پیدا کر کے اپنے بیرونی آقاؤں کو یہ دکھانا ہے کہ وہ اب بھی فعال ہیں تاکہ ان کی فنڈنگ بحال ہو سکے۔ لیکن یہ سستا پروپیگنڈا اب زیادہ دن کام نہیں آئے گا کیونکہ عام بلوچ عوام اب ان دہشت گردوں کو اپنے روزگار، امن اور ترقی کا سب سے بڑا دشمن تسلیم کر چکے ہیں، اور بہت جلد ریاست کے حتمی کاؤنٹر ٹیررازم آپریشنز کے نتیجے میں امن و امان کی سو فیصد بحالی کے ساتھ ان مجرموں کی مکمل ناکامی پوری دنیا کے سامنے واضح ہو جائے گی۔

Social Plugin